قومی مفاہمت کو کامیاب بنانے کے لئے عوام متحد رہیں: جامعہ الازہر

ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ہرممکن مساعی کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی سب سے بڑی علمی درسگاہ جامع الازھر نے ملک میں پائی جانے والی سیاسی کشیدگی کی فضاء کو ختم کرانے اور قومی مفاہمتی فارمولے کی کامیابی کے لیے اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ الازھر نے عوام اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گروہی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مفاہمتی کوششوں کی کامیابی کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹراحمد الطیب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "جامعہ الازھرکو ملک کی موجودہ نازک صورت حال اور عوام کی درسگاہ سے وابستہ امیدوں کا بھرپور احساس ہے۔ جامعہ الازھر قوم کے تمام نمائندہ دھاروں میں مصالحت اور افہام وتفہیم کے لیے مساعی کو قومی اور مذہبی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ جامعہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے قومی مفاہتی پالیسی کی نہ صرف حامی ہے بلکہ اس کی کامیابی کے لیے تمام دھڑوں سے اتحاد اور اتفاق کی اپیل کرتی ہے"۔

بیان میں ملک کے تمام نمائندہ اداروں، جماعتوں اور انقلابی گروپوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے اور کشت وخون کا سلسلہ بند کرانے کے لیے اخلاص اوراخوت وبھائی چارے کا مظاہرہ کریں۔ شیخ الازھر کا کہنا ہے کہ قومی مفاہمت ان کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے جامعہ الازھرسے جہاں تک ہوسکا کوششیں جاری رکھے گی۔

مصر میں سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیےمختلف سیاسی اور انقلابی نمائندوں کی جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب سے ملاقاتیں جاری ہیں۔ گذشتہ روز سلفی مسلک کی نمائندہ سیاسی جماعت "النور" کے ایک وفد نے قاہرہ میں شیخ الازھرسے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

درایں اثناء انقلابیوں کے نمائندہ "30 جون یوتھ فرنٹ" کے ایک وفد نے بھی جامعہ الازھرکے سربراہ سے ملاقات کی۔ انقلابی تنظیم نے شیخ الازھر سے اپیل کی کہ وہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے پوری قوم کے نام اعتدال پسندانہ مذہبی پیغام جاری کریں، تا کہ ملک میں خون خرابے کی فضاء کو ختم کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ انقلابیوں کے اسی محاذ نے تیس جون کو منتخب صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کےخلاف ملک بھرمیں احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے جن کے نتیجے میں فوجی بغاوت کی راہ ہموار ہوئی اور منتخب حکومت کو چلتا کیا گیا۔ "تیس جون محاذ" کے وفود نے مفتی مصرسمیت کئی دیگراہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں