مصر: جنرل السیسی کی فوج کی حمایت میں جمعہ کو مظاہروں کی اپیل

شہری تشدد اور دہشت گردی سے نمٹنے کا مینڈیٹ دینے کے لیے گھروں سے نکلیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے جمعہ کو ملک گیر ریلیوں کی اپیل کی ہے جس سے ان کے بہ قول انھیں تشدد اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مینڈیٹ ملے گا۔

انھوں نے بدھ کو مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ کے نزدیک فوجی کیڈٹوں کی گریجوایشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''میں تمام دیانت دار اور قابل اعتماد مصریوں سے کہتا ہوں کہ وہ آیندہ جمعہ کو اپنے گھروں سے نکلیں۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ مجھے اس بات کا مینڈیٹ دینے کے لیے نکلیں کہ میں ممکنہ تشدد اور دہشت گردی سے نمٹ سکوں''۔

ان کا واضح اشارہ جزیرہ نما سینا میں حالیہ ہفتوں کے دوران اسلامی جنگجوؤں کے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور ملک بھر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کی جانب تھا۔

جنرل السیسی نے کہا کہ مرسی کے معاونین نے انھیں خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو پھر مسلح گروپوں کی وجہ سے بہت زیادہ تشدد ہوگا۔انھوں نے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ انھوں نے مرسی کو دھوکا دیا ہے۔ انھوں نے انتقال اقتدار کے لیے اپنے وضع کردہ چھے ماہ کے سیاسی نقشہ راہ پر کاربند رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ''میری جمعہ کو مظاہروں کی اپیل تشدد کی کال نہیں ہے اور اس کا مقصد قومی مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ضمن میں حمایت کا حصول ہے''۔

ڈاکٹر محمد مرسی کی فوجی انقلاب کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں اور اس سے پہلے ان کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران کم سے کم دو سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ادھر جزیرہ نما سینا میں مسلح جنگجو قریباً روزانہ ہی سکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں۔

برطرف صدر کی حامی اسلامی جماعتوں کے لیڈروں نے سکیورٹی فورسز پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ انھیں حملوں میں ملوث قرار دینے کے لیے سازش پر عمل پیرا ہیں۔ انھوں نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں شہریوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ان پر پرتشدد حملوں کی سازش کررہی ہیں اور پھر وہ ان واقعات کا تعلق پرامن مظاہرین کے ساتھ جوڑ دیں گی۔

اخوان المسلمون کے سینیر رہ نما اعصام العریان نے فوجی سربراہ کی تقریر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ فوجی سربراہ کی جمعہ کو ریلیوں کی اپیل ایک دھمکی ہے اور اس سے مرسی کے حامی مظاہرین رکیں گے نہیں۔

انھوں نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا کہ ''آپ کی دھمکی لاکھوں افراد کو جمع ہونے سے نہیں روکے گی''۔ انھوں نے جنرل السیسی کو فوجی باغی لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے خواتین، بچوں اور نمازیوں کو قتل کیا ہے۔

منتخب جمہوری صدر کو چلتا کرنے کے لیے مظاہروں اور ریلیوں کو منظم کرنے والے گروپ تمرد نے فوجی سربراہ کی اپیل پر مظاہروں میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلح افواج کی حمایت کے لیے سڑکوں پر آئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں