یروشلم کو غیر متنازعہ قرار دینے کا قانون مسترد: امریکی عدالت

یہ قانون صدر بش کے دور حکومت میں کانگریس سے منظور کروایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کی وفاقی اپیل کورٹ نے اسرائیلی مقبوضہ شہر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرتے ہوئے سابق امریکی صدر بش کے دور میں جاری پاسپورٹ قانون کو رد کر دیا ہے۔ وفاقی اپیل کورٹ کے فیصلے کے مطابق یروشلم میں پیدا ہونے والے امریکی شہریوں کے پاسپورٹ میں جائے ہیدائش یروشلم نہیں لکھی جا سکے گی۔

امریکی سٹیٹ کولیمبیا میں قائم وفاقی عدالت برائے اپیل کے تین ججوں پر مشتمل پینل کی جانب سے جاری کئے جانے والے متفقہ فیصلے میں اس دیرینہ امریکی خارجہ پالیسی کی ان شقوں کو برقرار رکھا گیا ہے جن کے مطابق صرف امریکی صدر کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ اس تاریخی اور مقدس شہر جس کی ملکیت کا دعویٰ فلسطین اور اسرائیل دونوں کرتے ہیں، کو متنازعہ یا غیر متنازعہ قرار دے سکتا ہے۔

پینل کی جج کیرن ہنڈرسن نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ،" امریکی حکومت میں صرف امریکی صدر کے پاس ہی یہ اختیار ہے کہ وہ کسی غیر ملکی ریاست کو تسلیم کرے۔"

1948ء میں اسرائیل کی تخلیق سے ہی امریکی صدور نے یروشلم کے حوالے سے اپنا موقف دینے سے انکار کیا ہے اور یہ معاملہ مستقبل کے ممکنہ امن مذاکرات میں سب سے تکلیف دہ مسئلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ جو کہ پاسپورٹ جاری کرنے کی ذمہ دار ہے اور امریکی صدر کو جواب دہ ہے، نے 2002ء میں امریکی کانگریس کی جانب سے منظور کردہ اس قانون کے اطلاق سے انکار کردیا تھا کیوںکہ یہ قانون امریکی آئین کے تحت مقرر کردہ ایگزیکٹو اور قانون ساز اسمبلی کے اختیارات کے درمیان توازن کی حد کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

امریکی صدر جارج بش نے اس قانون پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس قانون کی تشریح ایک تجویز کی جگہ لازمی امر کے طور پر کی گئی تو یہ قانون امریکی صدر کی جانب سے اپنے ملک کے بین الاقوامی امور میں اپنی رائے دینے کے حق میں ناقابل اجازت حد تک مداخلت کر دے گا۔

اری اور نائومی زیوتوفسکی جن کا بیٹا میناکم یروشلم میں پیدا ہوا تھا اور امریکی شہری ہے، نے 2003 میں ایک درخواست دی تھی جس میں حکومت سے اس قانون کے اطلاق کا مطالبہ کیا تھا۔ میناکم کے پاسپورٹ پر اس کے پیدا ہونے کا شہر یروشلم لکھا گیا ہے جبکہ ملک کے نام کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہے۔

یہ معاملہ پچھلے سال امریکی سپریم کورٹ میں اٹھایا گیا اور یہ ابتدائی سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ معاملہ اس حد تک سیاسی ہے کہ اس کی عدالت میں پیروی کی ضرورت بھی باقی ہے یا نہیں۔ امریکی اعلی عدلیہ کے ایک پینل نے اس پر 8 کے مقابلے میں 1 ووٹ سے یہ اکثریتی فیصلہ دیا کہ اس کیس کی پیروی عدالت میں کی جا سکتی ہے۔ اسی فیصلے کے نتیجے میں ہمارے سامنے گزشتہ روز کا یہ فیصلہ آیا ہے۔

میناکم کے والدین کے وکیل نیتھن لیون کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے سامنے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کریں گے۔ لیون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "آج کے اس اکثریتی اور متفقہ فیصلے سے یہ بات مانی گئی ہے کہ اس کیس کی وجہ سے سامنے آنے والا آئینی مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے حل کئے جانے کا منتظر ہے۔"

اگر اس قانون کا اطلاق ہوجاتا ہے تو ایک اندازے کے مطابق تقریبا 50000 امریکی شہری ایسے ہیں جو کہ یروشلم میں پیدا ہوئے ہیں اور اس قانون کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسرائیل یروشلم کو اپنا ازلی اور ناقابل تقسیم دارالحکومت قرار دیتا ہے مگر کچھ ہی ملک اس کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔

فلسطینی مشرقی یروشلم جو کہ 1967 میں اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا تھا، کو مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ایک آزاد ریاست کا دارالحکومت قرار دینا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں