.

افغانستان کی پہلی خاتون گورنر 'ایشیائی نوبل انعام' کے لئے نامزد

مقامی حکومتوں کے نظام اور حقوق نسواں کے لئے حبیبہ کی خدمات کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کی تاریخ میں پہلی اور اب تک کی واحد خاتون گورنر کے علاوہ میانمر کی مذہبی اقلیت کے لیے کام کرنے والی افغانی خاتون بھی ''رامن میگسیسے ایوارڈ ''حاصل کرنے والوں میں شامل ہو گئی ہیں۔ فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں قائم ''رامن میگسیسے ایوارڈز فاونڈیشن'' کی طرف سےشروع کی گیا یہ ایوارڈ سابق فلپائنی صدر کے نام سے منسوب ہے۔ ایشیا کا نوبل پرائز سمجھا جانے والا یہ ایوارڈ ہر سال مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دینے والی تین شخصیات اور دو ادراوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

ایوارڈ کا اجراء کرنے والی فاونڈیشن نے اس سال کے انعام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس بار 'ایشیا کا نوبل انعام' حاصل کرنے والوں میں دو افغان خواتین کے علاوہ ایک فلپائنی ڈاکٹر، انڈونیشیا میں کرپشن کے خلاف کام کرنے والا آزاد کمیشن اور نیپال میں انسانی سمگلروں کے متاثرہ افراد کی تنظیم شامل ہیں۔

افغانستان میں پہلی خاتون گورنر57 سالہ حبیبہ سرابی کو صوبہ بامیان میں مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے میں مدد دینے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ حقوق نسواں کے لیے پر تشدد کے ماحول کے باجود کام کرنے کی بنیاد پر اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ نسلی اور مذہبی اعتبار سے اقلیت سے تعلق رکھنے والی اس خاتون گورنر کی اپنے مقاصد کے لیے حوصلہ مندی بے مثال تھی۔

''ایشیائی نوبل انعام '' پانے کی مستحق قرار پانے والی دوسری افغان خاتون 64 سالہ بیوہ ہیں، جنہوں نے میانمار کی اس اقلیت کے لیے کام کیا جو مسلح نسلی تصادم کا نشانہ بنی۔ اس افغان خاتون نے ایک مخصوص اقلیت کے ریلیف اور بحالی کی غرض سے صحت اور نکاسئ آب کے منصوبوں پر کام کیا، خصوصا جب 1997 میں میانمار میں فوجی حکومت تھی تو اس افغان خاتوں نےاس میانمار کی اقلیت کے لیے کام شروع کیا۔ واضح رہے یہ اقلیت میانمار کے ان مسلمانوں پر مشتمل نہیں ہے جو فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی مارے کچلے جا رہے ہیں۔