.

تیونس: اپوزیشن لیڈر کے قتل میں ملوث 6 مشتبہ ملزموں کی شناخت

شکری بالعید کے قتل کی سازش کرنے والوں کا پتا چلا لیا گیا: مشیر وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حزب اختلاف کے اہم رہ نما کے قتل کی سازش میں ملوث چھے مشتبہ ملزموں کی شناخت ہوگئی ہے۔

تیونسی وزیراعظم کے ایک سینیر مشیر نورالدین بی حری نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ''ہم نے شکری بالعید کے قتل کو اسپانسر کرنے اور اس کی منصوبہ بندی کرنے والوں کی شناخت کرلی ہے''۔انھوں نے کہا کہ اس کی تمام تفصیل وزیرداخلہ لطفی بن جدو بہت جلد بتائیں گے۔

شکری بالعید کو 6 فروری2013ء کوان کے گھر کے باہر دن دہاڑے قتل کردیا گیا تھا۔اس واقعہ کے خلاف ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اورحزب اختلاف نے شدید احتجاج کیا تھا۔اس واقعہ کے بعد سیاسی بحران کے نتیجے میں اسلامی جماعت النہضہ کے وزیراعظم حمادی جبالی کومستعفی ہونا پڑا تھا۔

تیونس کی وزارت داخلہ نے اسلامی جنگجوؤں کے ایک سخت گیر سیل پر شکری بالعید کے قتل کا الزام عاید کیا تھا۔وہ جبالی حکومت کے بھی سخت ناقد تھے۔اپریل میں تیونسی حکومت نے پانچ اسلامی جنگجوؤں کے نام اور تصاویر جاری کی تھیں اورعوام سے ان کی گرفتاری میں مدد کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ جنوری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کا تختہ الٹنے کے لیے عوامی انقلاب کے بعد سخت گیر اسلامی جنگجوؤں پر تشدد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ان میں سے سب سنگین واقعہ گذشتہ سال ستمبر میں پیش آیا تھا اور امریکی سفارت خانے پر حملے میں چار افراد مارے گئے تھے۔