.

گوانتانامو حراستی مرکز دنیا کی مہنگی ترین جیل

رواں سال جیل کے انتظام و انصرام پر 450 ملین ڈالر خرچ ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیوبا کے جزیرہ گوانتانامو میں قائم امریکا کا بدنام زمانہ حراستی مرکز رواں سال میں دنیا کی سب سے مہنگی ترین جیل قرار دی جا رہی ہے۔ اس جیل میں زیرحراست پونے دوسو کے قریب افراد پر جتنی خطیر رقم خرچ ہو رہی ہے وہ اندازوں سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گوانتانامو حراستی مرکز پر رواں سال 40 کروڑ 50 لاکھ ڈالرکے اخراجات ہوں گے۔ گوانتانامو جیل کا یہ سالانہ بجٹ باراک اوباما انتظامیہ کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے جو گوانتانامو کے لیے اتنی بھاری رقم دینے کے ساتھ ساتھ زوال پذیر معیشت کا بھی رونا رو رہے ہیں۔

حراستی مرکز میں بھاری اخراجات کے بارے میں یہ انکشاف حال ہی میں جیل کو بند کرنے اور قیدیوں کوامریکا منتقل کیے جانے کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ہوا۔ عدالت میں ڈیموکریٹس کے ماہرین قانون کے ایک گروپ نے نہ صرف جیل ختم کرکے قیدیوں کو امریکا منتقل کرنے کے حق میں دلائل دیے بلکہ بتایا کہ یہ جیل زوال پذیر امریکی معیشت پر کتنا بھاری بوجھ بنی ہوئی ہے۔ عدالت کوبتایا گیا کہ رواں سال امریکی انتظامیہ گوانتا نامو جیل پر450 ملین ڈالرخرچ کرے گی۔ گویا جیل میں زیرحراست 166 محروسین پرفی کس 27 لاکھ ڈالرز خرچ ہوں گے جبکہ خود امریکا کے اندر جیلوں میں کسی بھی قیدی پرایک سال میں زیادہ سے زیادہ 78 ہزار ڈالر رقم خرچ کی جاتی ہے۔

گوانتانامو جیل میں رواں سال اٹھنے والے اخراجات کے بارے میں یہ خفیہ معلومات وزارت دفاع پینٹاگان سے لیک ہوئی ہیں۔ یہ رقم اس سے قبل بتائے گئے اخراجات کے نصف سے بھی زیادہ ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن سینٹ ڈیان وانٹسائن نے جیل کو بند نہ کرنے اوراس پر پانی کی طرح پیسہ بہانے کی حمایت پر حزب مخالف کے موقف کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے دباؤ پر"حکومت صرف 196 قیدیوں کے لیے بنائی گئی جیل پربے دریغ طریقے سے بھاری رقوم خرچ کیے جا رہی ہے، حالانکہ جیل میں زیرحراست ملزمان پر نہ کوئی الزام ہے اور نہ ان پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں"۔

ری پبلیکن پارٹی اور ان کے حامیوں کا حراستی مرکز کو بند کرنے اور قیدیوں کو کسی دوسری جیل میں منتقل کرنے کے بارے میں نقطہ نظر مختلف ہے۔ ری پبلیکن کے رُکن سینٹ ٹیڈ کروز نے گوانتا نا جیل کے بارے میں اپنی پارٹی کا روایتی موقف دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "گوانتا نامو کو بند کرنا اپنی جگہ اہم ترین سوال ہے، لیکن اگلا سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کو کہاں رکھا جائے گا؟ کیا آپ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ خطرناک اسیران رہائی کے بعد اپنے اپنے ملکوں میں جائیں گے اور امن کے ساتھ رہیں گے؟ میرے خیال میں ایسا ناممکن ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گوانتا نامو جیل کو بند کیے جانے کے بارے میں سب سے پہلے صدر براک اوباما نے آواز اٹھائی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ سنہ 2009ء کے بعد اس بدنام زمانہ حراستی مرکز کو بند کیے جانے کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے کئی اجلاس منعقد ہوئے۔ گوکہ اب ڈیموکریٹس کے ساتھ ری پبلیکن پارٹی کے موقف میں بھی جیل کو بند کیے جانے کے حوالے سے قدرے لچک سامنے آئی ہے لیکن اب بھی اسے بند کرنے کی راہ میں کئی پیچیدگیاں حائل ہیں۔

گوانتانامو جیل کوبند کرنے کے مخالفین کا موقف ہے کہ قیدیوں کوامریکا منتقل کرنا امریکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اگرانہیں ان کے ملکوں میں واپس بھیجا جائے تو وہ پھر سے دہشت گردی کی کارروائیاں کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اسی جیل سے رہائی پانے والے 28 فی صد ملزمان دوبارہ عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوئے ہیں۔