.

اسکندریہ میں مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں، 5 ہلاک

86 افراد زخمی ہوئے، مضروبین کی اکثریت کو گولیوں کے زخم آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر سے العربیہ کے نامہ نگاروں نے اپنے مراسلوں میں بتایا ہے کہ فوج کے ہاتھوں برطرف کئے جانے والے صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جمعہ کے روز ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک جبکہ 86 کے زخمی ہو گئے۔

قاہرہ کے وسط میں الرمل میڑو اسٹیشن کے اردگرد مرسی کے حامی اور مخالفین کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہی۔ علاقے کی مسجد قائد ابراہیم بھی میدان جنگ بنی رہی۔ صدر مرسی کے حامی مسجد میں مورچہ زن ہو کر بیٹھ گئے اور کسی کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ ادھر اسکندریہ شہر کی فضاء میں ٘مصری فوجی ہیلی کاپٹر احتجاج کے مقامات پر نچلی پروازیں کرتے رہے۔ فوجی ہیلی کاپٹروں سے مصری پرچم بھی مظاہرین پر گرائے جاتے رہے۔

اسنکدریہ شہر کے باسی مصری فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے کال پر سیدی جابر علاقے میں احتجاج کے لئے جمع ہوئے۔ مسلح افواج نے اسنکدریہ سیکیورٹی سرکل کے تعاون سے سیدی جابر کے علاقے میں ہونے والے مظاہروں میں بدامنی پر قابو پانے کے لئے خصوصی انتظامات کر رکھے تھے۔ سیدی جابر کے ملڑی کمان کنڑول ہیڈکوارٹر کو جانے والے راستے خاردار تار لگا کر بند کر دیئے گئے تھے جبکہ بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے بھی حساس مقامات کے داخلی دروازوں پر پہرہ دیتے رہے۔

یاد رہے کہ جولائی کے آغاز میں سیدی جابر کے علاقے میں صدر مرسی اور ان کے مخالفین کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں جن میں 32 افراد ہلاک اور سیکڑوں دیگر زخمی ہو گئے۔