تیونس: سیکولر سیاستدانوں کے قتل میں ایک ہی قسم کی بندوق کا استعمال

البراہمی کو بھی بلعید کی طرح 9 ایم ایم کی بندوق سے ٹھکانے لگایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

تیونس کے وزیر داخلہ لطفی بن جدو کا کہنا ہے کہ جمعرات کو قتل ہونے والے سیکولر سیاستدان محمد البراہمی کو ویسی ہی بندوق سے قتل کیا گیا ہے جس طرح کا آلہ قتل چھے ماہ قبل ہلاک کئے جانے والے شکری بلعید کو ٹھکانے لگانے میں استعمال ہوا تھا۔

وزیر داخلہ کے بہ قول آلہ قتل میں پائی جانی والی مماثلت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ محمد البراہمی کے قتل کے پیچھے بھی انتہا پسند سلفی تنظیم کارفرما ہے۔

لطفی بن جدو نے جمعہ کے روز تیونس کے دارلحکومت میں پر ہجوم نیوز کانفرنس کو بتایا کہ "بلعید کو ہلاک کرنے والی نو ملی میٹر بور کی بندوق سے ہی البراہمی کو قتل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انتہا پسند سلفی سے تعلق رکھنے والے البراہمی قتل کیس کے ٶ مرکزی ملزم کا نام ابوبكر بن الحبيب الحكيم ہے۔ ابوبکر لیبیا سے اسلحہ سمگل کرنے کے الزامات میں حکام کو پہلے ہی مطلوب تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں