.

بان کی مون اور پاکستان کا معزول مصری صدر کی رہائی کا مطالبہ

"سیاستدانوں پر بنائے گئے مقدمات کا شفافیت سے جائزہ لیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مصر کو جاری بحرانی صورت حال سے نکالنے کے لیے برطرف شدہ صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کے رفقا کی رہائی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا سیاسی رہنماوں کے خلاف بنائے گئے مقدمات کا بغیر کسی تاخیر کے شفافیت کے ساتھ جائزہ لیا جائے۔ اس امر کا اظہار اقوام متحدہ کے نائب ترجمان ایڈورڈ ڈیل بوئی کی طرف سے سیکرٹری جنرل کے جاری کردہ ایک بیان میں کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تین جولائی کو صدر مرسی کی برطرفی کے بعد معزول صدر کے حامی مسلسل سڑکوں پر ہیں اور اب تک مختلف واقعات میں دو سو کے قریب مظاہرین مارے جا چکے ہیں، جبکہ مرسی اور اخوان المسلمون کے متعدد رہنما حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

دوسری طرف مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے تین جولائی کے فوجی اقدام کے حامیوں کو بھی جمعہ کے روز سے بالواسطہ انداز میں سڑکوں پر لانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اس صورتحال میں پولیس نے غیر معمولی طور پر سیکورٹی انتظامات کا اشارہ دیا ہے۔ البتہ مصری فوج کا اصرار ہے کہ جمعہ کو اپنے حامیوں کو سڑکوں پر اخوان المسمون کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی اور تشدد کے مقابلے کے لیے آنے کے لیے کہا ہے۔

تاہم فوج کی طرف سے اخوان المسلمون کو 48 گھنٹوں کے لیے رواں مہینے کے دوران دی جانے والی دوسری مہلت اہم ہے کہ اس مہلت کے خاتم ہونے سے پہلے اخوان کو فوج کے ''روڈ میپ'' سے اتفاق کا فیصلہ کرنا ہو گا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق قاہرہ میں موجود ایک سینئیر فوجی افسر کا کہنا تھا'' اخوان کو اڑتالیس گھنٹوں کی دی گئی مہلت ایک سیاسی دعوت ہے، اس یہ مطلب نہیں کہ مہلت ختم ہونے کے بعد اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاون شروع کر دیا جائے گا۔''

درایں اثنا سابق وزیر اعظم ہشام قندیل نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ''فریقین کو سڑکوں پر مارچ سے پرہیز کرنا چاہیے اوراپنی ریلیوں کو ایک طے شدہ جگہ پر ہی مرتکز رکھنا چاہیے۔'' اس صورتحال میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا مصر میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے سامنے آنے والا بیان انتہائی اہم ہے۔

پاکستان کا محمد مرسی کی فوری رہائی کا مطالبہ

ادھر جمعہ کے روز پاکستان نے بھی مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک بیان میں مصر کے موجودہ حالات اور تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ جنوری 2011ء میں مصر میں انقلاب کے بعد بحال ہونے والی جمہوریت کو موجودہ حالات سے شدید دھچکا لگا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مصر پاکستان کا قریبی دوست ملک ہے اور کیوں کہ پاکستان خود بھی ماورائے آئین مداخلت کا شکار رہا ہے اس لیے وہ کسی بھی ملک میں تنازعات کے حل کے لیے فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔

پاکستان نے مصر میں تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی اور آئینی معاملات مل کر حل کریں تاکہ ملک میں جمہوری ادارے جلد از جلد بحال ہو سکیں۔

بیان میں پاکستانی حکومت اور عوام کی طرف سے اس اُمید کا اظہار بھی کیا گیا کہ مصر اپنے معاملات کو اس انداز میں حل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا جن سے وہاں سیاسی استحکام، جمہوری تسلسل اور ملک کی ترقی و عوام کی خوشحالی ممکن ہو سکے۔