.

امریکا: شمالی ورجینیا یونیورسٹی کی بندش سے بھارتی طلبہ و طالبات پریشان

بھارتی سٹوڈنٹس کی پسندیدہ یونیورسٹی کا چانسلر قحبہ خانے کا بھی مالک نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ورجینیا ہائر ایجوکیشن کونسل نے اپنے ایک اعلامیے کے ذریعے شمالی ورجینیا یونیورسٹی کے چانلسر کے غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے کے بعد فورا اپنی تعلیمی سرگرمیاں روکنے کا حکم دیا ہے۔ جس کی وجہ سے بھارتی سٹوڈنٹس کے لیے سب سے زیادہ پریشانی پھیل گئی ہے ۔

غیر ملکی طالبِ علموں کے حوالے سے بالعموم اور بھارتی طلبہ و طالبات کی غیر معمولی تعداد کے حوالے سے بطور خاص اہم سمجھی جانے والی شمالی ورجینیا یونیورسٹی کے چانسلر کے بارے میں مشکوک اطلاعات کی بنیاد پر امیگیرشن اور کسٹم انفورسمنٹ کے فیڈرل بیورو نے ایک قحبہ خانہ پردو سال قبل چھاپہ مارا تھا۔ متعلقہ ادارے یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یہ قحبہ خانہ بھی اس یونیورسٹی کے چانسلر کی ملکیت ہے۔

یونیورسٹی سے متعلقہ ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2011ء میں جب امریکی اداروں نے قحبہ خانوں پر چھاپہ مارا اتفاق سے اس وقت بھی اس بھارتی طلبہ و طالبات کی تعداد غیر ملکی سٹوڈنٹس سے زیادہ تھی اور ٹھیک دو سال بعد جب اس یونیورسٹی کی بندش کا حکم دیا گیا ہے تو بھارتی طلبہ و طالبات ہی تعداد میں آگے ہیں ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی کی بندش کے بعد بھارتی طلبہ و طالبات و والدین سخت پریشانی کا شکار ہیں ۔ امریکی ریاست ورجینیا کے محکمہ داخلہ نے یونیورسٹی سے طلبہ و طالبات کی تعلیمی اور مالی معاملات سے متعلق ریکارڈ طلب کر لیے ہیں اور غیر ملکی طلبہ و طالبات سے کہا ہے کہ اپنا ایف 1 ویزا کے ہمراہ دیگر دستاویزات لے کر محمکہ داخلہ سے رجوع کریں تاکہ انہیں امیگیریشن اور عملی تربیت کیلئے سہولت باہم پہنچائی جا سکے۔

میڈیا رپورٹس میں یونیورسٹی بندش کے حکم نامے کا ذکر کرتے ہوئے یہ چیز ظاہر نہیں کی گئی ہے کہ مبینہ قحبہ خانہ کے مالک اور یونیورسٹی کے چانسلر کے کاروبار اور اس ذمہ داری کا باہم کوئی تعلق تھا یا یہ چیز واضع طور پر نہیں بتائی گئی تھی۔

شمالی ورجینا یونیورسٹی کے اچانک بند ہو جانے سے زیر تعلیم طلباء کو تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔