.

تیونس میں ہزاروں افراد کی مقتول اپوزیشن رہنما کے جنازے میں شرکت

مرحوم کے گھر سے جنازگاہ تک سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رکن دستور ساز اسمبلی محمد البراھمی کے اخری رسومات ہفتے کے روز دارلحکومت تیونس میں ادا کی گئیں۔ پیپلز فرنٹ کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہونے والے اٹھاون سالہ محمد البراھمی کو گزشتہ روز اپنے گھر کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نے گولی ماری، جس کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں دم توڑ گئے۔

محمد البراھمی کے سفر آخرت کا آغاز دارلحکومت کی گرین کالونی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے ہوا۔ مرحوم کا جسد خاکی ایک کھلی فوجی گاڑی میں رکھ کر الجلاز قبرستان میں ان کی آخری آرام گاہ تک لیجایا گیا۔

جنازے میں شریک افراد حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے حکمرانوں سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ جلد از جلد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوں۔ شرکاء جنازہ نے اپوزیشن رہنما شکری بلعید اور محمد البراھمی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ شکری کو چھے ماہ قبل گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ البراھمی کو بھی شکری بلعید کی آخری آرام گاہ کے قریب ہی سپرد خاک کیا گیا ہے۔
البراھمی کی بیوہ اور بیٹا ان کا جسد خاکی لیجانے والی کھلی فوجی گاڑی میں سوار تھے اور وہ بار بار ہاتھوں سے وکٹری کا نشان بنا رہے تھے۔ مرحوم کے سوگوار بیٹے نے فلسطینی پرچمی رنگوں سے مزین گلو بند گلے میں ڈال رکھا تھا اور دونوں ماں بیٹا قومی ترانہ بلند آواز میں پڑھ رہے تھے۔

اس موقع پر شہر میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ جنازے کے طویل جلوس کے تین کلومیٹر پر محیط جلوس کی راہ میں فوجی اور پولیس اہلکار پہرہ دے رہے تھے۔ فضاء سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جنازے کے جلوس کی نگرانی کی جا رہی تھی۔

وزارت داخلہ نے مقامی وقت صبح سات بجے سے ہی الجلاز قبرستان کے علاقے میں عام گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا تھا اور اس پابندی کو تدفین کے بعد تک برقرار رکھا گیا تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچ جا سکے۔ جنازے کے موقع پر فرط غم سے نڈھال مرحوم کے حامیوں کی بڑی تعداد نے روٹ میں آنے والی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچایا۔