.

سعودی عرب: جعلی ڈگریوں پر افسر بننے والوں کو کارروائی کا خوف

دو ہزار افسروں نے ریٹائرمنٹ مانگ لی، 620 کی ڈگریاں جعلی ثابت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت کی طرف سے احتساب اور شفافیت کی پالیسی پر آئندہ دنوں سختی سے عمل درآمد کے خوف کے باعث تقریبا دو ہزار سرکاری حکام اور عہدیداروں نے قبل از وقت ریٹائر منٹ کے لئے سعودی حکومت کو درخواستیں دے دی ہیں ۔ یہ درخواستیں سعودی محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے سرکاری عمال کی تعلیمی اسناد کی پڑتال کے لیے جاری مہم کے بعد سامنے آئی ہیں۔

کثیر الاشاعت انگریزی روزنامے سعودی گزٹ کی حالیہ رپورٹ مطابق سرکاری حکام کی اسناد اصلی یا جعلی ہونے کا پتہ چلانے کے لیے شروع کی گئی مہم کے دوران 620 سرکاری عہدیداروں کے بارے میں انکشاف سامنے آیا کہ وہ جعلی تعلیمی اسناد اور ڈگریوں کی بنیاد پر اعلی عہدوں پر فائز ہیں اور انہوں نے حکومت سے اپنی اس جعلسازی کو چھپائے رکھا ہے۔

ان جعلسازوں میں مبینہ طور پر 234 سرکاری عمال ایسے ہیں جن کے پاس مختلف مضامین میں ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگریاں ہیں، 230 ایسے سرکاری افسران ہیں جو ایم اے اور ایم ایس سی کی جعلی ڈگریاں رکھتے ہیں اور 56 ایسے ہیں جن کی گریجوایشن کی ڈگریاں بھی جعلسازی کا شاہکار ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے 234 سرکاری افسروں کی ڈگریوں کی چھان بین کرنا ابھی باقی ہے۔ تاہم جعلی یا مشکوک ڈگریوں کے حامل ہونے کے باوجود ان افسروں میں سے پانچ مختلف محکموں کے انڈر سیکریٹری، ڈائریکٹر انتظامی امور اور جنرل انڈر سیکرٹری شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایک سینئیر حکومتی عہدے دار نے جعلی ڈگری کیس سامنے آنے کے بعد اپنا استعفیٰ جمع کروا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریبا 2000 حکومتی عہدیداران نے آنے والے آٹھ ماہ کے اندر اندر اپنی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لئے درخواست دے دی ہے۔