.

شامی باغیوں کی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے ملاقات

وفد کا روس سے بشارالاسد کو سیاسی و فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے باغی رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے پہلی مرتبہ ملاقات کی جس میں انہوں نے دو برسوں میں اپنے ملک میں جاری جنگ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ جمعہ کے روز ہونے والے اس ملاقات میں انہوں نے روس سے اپیل کی کہ وہ صدر بشار الاسد کے لئے اپنی مضبوط فوجی اور سیاسی حمایت ختم کریں۔

پندرہ رکنی یو این سیکیورٹی کونسل شام کے معاملے پر ڈیڈ لاک کا شکار ہے۔ بشار الاسد کو اسلحہ فراہم کرنے والا اس کا قریبی اتحادی روس اور چین تین مرتبہ بشار الاسد کے خلاف امریکا، برطانیہ اور فرانس کی حمایت یافتہ قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔

ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے شامی نیشنل اتحاد کے سینئر عہدیدار نجیب نے بتایا کہ " ہم نے انہیں [روس] پر زور دیا ہے کہ وہ شام کی مجرم حکومت کو فوجی اور سیاسی مدد فراہم کرنا بند کریں تاکہ وہ اپنے عوام کے خلاف جرائم جاری نہ رکھ سکیں۔

شامی نیشنل اتحاد کے وفد کی یو این سیکیورٹی کونسل سے غیر رسمی ملاقات کا اہتمام برطانیہ نے کیا تھا اور شامی وفد کی قیادت اتحاد کے نو منتخب صدر احمد عاصی الجربا نے کی۔ جمعرات کو اس وفد نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں شامی رہنماؤں نے واشنگٹن پر معاملے کے سیاسی حل کے لئے کوششیں تیز کرنے کے ساتھ ساتھ باغیوں کو اسلحہ فراہمی پر بھی زور دیا۔

اقوام متحدہ کے مرتب کردہ اعداد وشمار کے مطابق شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے آغاز سے ابتک ایک لاکھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔