.

طرابلس اور بنغازی میں اخوان المسلمون کے دفاتر پر بلوائیوں کے حملے

لوٹ مار کے بعد دفتری ریکارڈ سڑکوں پر پھینک دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں سرکردہ سیاسی رہ نماؤں کے قتل کے خلاف عوامی احتجاج پُرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گیا۔ ان میں سیاسی رہنما عبدالسلام المسماری کو دو روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا.

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائیٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز دو بڑے شہروں طرابلس اور بنغازی میں اخوان المسلمون اور لبرل الائنس کے دفاتر پر حملوں میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ مشتعل افراد نے دفاتر میں گھس کرعملے کو یرغمال بنایا اور دفتری ریکارڈ اٹھا کر باہر سڑکوں پرپھینک دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق گذشتہ روز بنغازی میں نماز جمعہ کے بعد نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے سیاسی رہ نما عبدالسلام المسماری کی ہلاکت کے خلاف رات کو بنغازی میں احتجاجی مظاہرے کیےگئے۔ یہ احتجاجی مظاہرے ہفتے کے روز بھی جاری رہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں جاں بحق فوجی اور سیاسی رہ نماؤں کی تصاویر اٹھار رکھی تھیں۔ ان مشتعل مظاہرین نے ہفتے کو بنغازی اور طرابلس میں اخوان المسلمون کے دفاترپر یلغارکی، جس کے نتیجے میں دفاتر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

بنغازی سے ایک مقامی شہری رامی الشہیبی نے بتایا کہ مشتعل بلوائیوں نے اخوان المسلمون اور انصاف وتعمیر پارٹی کے دفترکے لیے استعمال کی جانے والی دو عمارتوں کو نذر آتش کردیا۔

درایں اثناء طرابلس سے رائیٹرز کے نامہ نگار نے بتایا کہ ہفتے کے روز سیکڑوں افراد نے بنغازی میں سیاسی کارکنوں کے قتل کے خلاف میدان شہداء میں ایک بڑی ریلی نکالی۔ اسی دوران دارالحکومت طرابلس میں بلوائیوں کےایک گروپ نے انصاف وتعمیر پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا اور دفتر کی توڑپھوڑ کے بعد وہاں پر موجود تمام ریکارڈ نکال کرسڑکوں پر پھینک دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مشتعل ھجوم نے نیشنل کانگریس میں شامل ایک بڑی لبرل جماعت کے دفترمیں داخل ہوکر لوٹ مارکی اور عملے کو زدو کوب کیا۔

خیال رہے کہ مقتول سیاسی رہ نما مسماری اخوان المسلمون کی مخالفت میں پیش پیش رہے ہیں۔ انہوں نے لیبیا میں مسلح جنگجو گروپوں کی موجودگی پرکئی بار ٹی وی پرآن ایئرسخت احتجاج اور مخالفت بھی کی تھی، جس کے بعد انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے جان سےمارے جانے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔