یمن: ڈرون حملوں میں القاعدہ کے چھ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک

اسی ماہ کے دوران القاعدہ کے یمنی نیٹ ورک کا نائب کمانڈر نشانہ بنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے چھ مشتبہ عسکریت پسند جاں بحق ہو گئے ہیں، مبینہ طور پر مشتبہ افراد دو گاڑیوں میں ایک قافلے کی صورت یمن کے جنوبی صوبے ابین کے علاقے مہفد میں سفر کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ صوبہ ابین کے بیشترعلاقے میں گذشتہ سال ہونے والے فوجی آپریشن سے پہلے جہاد پسندوں کا قبضہ تھا۔

یمنی فوج کے ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں اداروں کو بتایا کہ ''رات کے وقت کیے گئے ڈرون حملوں کے ذریعے ان مشتبہ افراد کی دو گاڑیوں کو وادی دھیقہ میں نشانہ بنایا گیا تو ان پر سوار چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔''

یمنی فوج نے 2012 میں کیے گئے ایک بڑے آپریشن کے بعد ابین کےعلاقوں زنجیباراور جار سمیت بیشتر شہروں کو عسکریت پسندوں سے واپس لے لیا تھا، تاہم عسکریت پسندوں نے خود کو مہفد کے پہاڑوں پر محصور کر لیا تھا۔ جہاں سے عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر حملے کر کے بھاگ جانے اور چھپ جانے کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عسکریت پسندوں نے یمنی حکومت کی اس کمزوری کا بھی فائدہ اٹھایا ہےجو 2011 میں مزاحمتی تحریک کی وجہ سے لاحق ہوئی ۔ امریکا نے یمن کے لیے''اے کیو اے پی'' [جو کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کا اہم ترین نیٹ ورک سمجھا جاتا ہے] کے خلاف لڑائی میں اپنی امداد پیش کی۔

''نیو امیریکن فاونڈیشن'' تھنک ٹینک کے مطابق امریکی ڈرون حملوں میں 2011 مقابلے میں 2012 کے دوران اٹھارہ سے ترپن ہو کر تین گنا بڑھ چکے ہیں۔ اب تک اکثر القاعدہ رہنما ان حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکا کو اہم کامیابی 17 جولائی کو ہوئی جب القاعدہ کے اس نیٹ ورک کے نائب کمانڈر سعید الشہری کی موت کی تصدیق ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں