یورپی یونین اور دیگر ممالک دوغلے پن کا شکار ہیں: طیب ایردوآن

ترک مظاہرین پر پانی پھینکنے پر شور کرنے والے مصری قتل عام پر خاموش؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں میں شمار ہونے والے ترکی کے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے قاہرہ میں ہفتہ کے روز درجنوں مظاہرین کے قتل کی دوٹوک اور سخت مذمت نہ کرنے پر یورپی یونین اور دوسرے ممالک کو آڑے ہاتھوں لیا اور دوغلہ پن دکھانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مصری سیکیورٹی حکام کے ہاتھوں ہفتے کے روز معزول صدر مرسی کے درجنوں حامی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ یہ خونریز واقعہ تشدد اوردہشت گردی کے خاتمے کے لیے مصری فوج کو جنرل السیسی کی اپیل پر ملنے والی عوامی حمایت کےاگلے ہی روز پیش آیا ہے۔

قاہرہ میں پیش آنے والے اس واقعے پر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات کی سربراہ کیتھرائن آشٹن نے اگرچہ گہرے افسوس کا اظہار اور تشدد کی اس لہر کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن ترک وزیراعظم طیب ایردوآن، جن کی حکومت کے خلاف حال ہی میں مظاہرے ہوچکے ہیں، نے یورپی یونین پر دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین نے ترک پولیس کی طرف سے آنسو گیس کے استعمال پراعتراض کیا تھا لیکن قاہرہ میں مظاہرین پرفائرنگ پرکچھ نہیں کہا جا رہا ہے۔

ایردوآن نے استنبول میں تاجروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ"جو لوگ پہلے مصر کی قومی رائے کے قتل عام کے وقت خاموش رہے تھے آج وہ مصری عوام کے قتل عام پربھی خاموش ہیں،" طیب ایردوآن کا مزید کہنا تھا ''یورپی یونین کی یورپی اقدار کا کیا بنا؟ کہاں گئے وہ لوگ جو پوری دنیا میں جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں؟"

ترک وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "کہاں گئی اقوام متحدہ؟ کہاں گئے وہ لوگ جواس وقت شور مچا رہے تھے جب کہ ترک پولیس بہت جائز اور قانونی دائروں میں رہتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر گنز استعمال کر رہی تھی، مگراب مصر میں فوجی بغاوت ہے اور قتل عام ہو رہا ہے تو وہ چپ سادھے بیٹھے ہیں۔"

ایردوآن کے یہ خیالات امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جانب سے مصری حکام کو پرامن مظاہرین کے حق کا احترام کرنے کے مطالبے سے پہلے سامنے آئے ہیں ۔

یورپی یونین جس میں ترکی شمولیت کا ارادہ رکھتا ہے، دوسری طرف امریکہ کی جانب سے ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں پر پولیس کریک ڈائون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا. واضح رہے ان مظاہروں میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں