99 سالہ ایرانی بڑھیا کا امریکی شہری بننے کا خواب ہوا پورا!

''دنیا میں امریکا سے بہتر رہنے کے لیے اور کوئی جگہ نہیں ہے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی شہریت کا حصول دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں کے لیے ایک ایسا خواب ہے کہ وہ اس کے لیے اپنی پوری پوری زندگیاں ہی لگا دیتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں میں ایک ایرانی نژاد خاتون خوئیکانی ہیں۔انھیں امریکی شہری بننے کے لیے قریباً ایک صدی لگی ہے۔

خوئِیکانی کی عمر اس وقت ننانوے برس ہے۔وہ ایران میں پیدا ہوئی تھیں لیکن پندرہ برس قبل یعنی چوراسی سال کی عمر میں امریکا چلی گئیں۔انھوں نے ایک صدی کے دوران ہرطرح سردوگرم دیکھے۔دوعالمی جنگوں اور دنیا میں رونما ہونے والے انقلابات اور رنگا رنگ واقعات کو ملاحظہ کیا۔

اب کہیں جا کر جمعہ کو ان کی امید بھر آئی ہے اور انھیں قریباً تین ہزار سات سو دیگر لوگوں کے ساتھ لاس اینجلس کے کنونشن سنٹر میں امریکی شہری بننے کے عمل سے گزارا گیا ہے۔''میں بہت خوش ہوں کہ میں اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی''۔خوشی سے سرشار خوئِیکانی کا حلف برداری کے بعد فارسی میں کہنا تھا۔

خوئیکانی اس سال امریکی شہری بننے والی معمرترین خاتون ہیں۔ان کے ساتھ پچانوے اور سوسال کے درمیان عمر کے گروپ میں چند ایک اور لوگ بھی شامل تھے جنھیں امریکی شہری بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

لاس اینجلس میں امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز دفتر کی نمائندہ کلئیر نکولسن نے اس موقع پر بتایا کہ '' گذشتہ پچاس سال کے دوران ایک سو سال سے زیادہ عمر کے ستائیس لوگوں کو امریکی شہری بنایا گیا ہے۔آپ کو اس خاتون کی تحسین کرنی چاہیے کیونکہ یہ بہت ہی شاندار موقع ہے اور ہم ان کی عمر کے زیادہ تر لوگوں کو شہریت نہیں دیتے ہیں''۔

نکولسن نے بتایا کہ اب تک ایک ترک تارک وطن خاتون مانک بوکشیلیان امریکی شہری بننے والی سب سے معمر ترین خاتون ہیں۔انھوں نے 1997ء میں جب امریکی شہریت کا حلف اٹھایا تو اس وقت ان کی عمر ایک سو سترہ برس تھی۔وہ بھی لاس اینجلس ہی میں رہتی تھیں۔

امریکی شہریت کے لیے حلف برداری کے وقت ایرانی نژاد خاتون کی بیٹی نے وہیل چئیر سے ہاتھ اٹھانے اور دل پر رکھنے کے عمل میں ان کی مدد کی۔کلارا خاشادوراں نے کہا:''جب میں بچی تھی تو میری والدہ اکثر امریکا جانے کے بارے میں باتیں کیا کرتی تھیں۔اب ہم انھیں امریکی شہریت ملنے پر بہت خوش ہیں''۔

خوئیکانی تب سے امریکا آنے کا خواب دیکھ رہی تھیں جب انھوں نے بچپن میں پہلی مرتبہ اپنے دادا اس ملک کے بارے میں سنا تھا۔وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ 1998ء میں امریکا گئی تھیں جبکہ ان کے تینوں بچے اس سے تیس سال قبل ایران سے امریکا منتقل ہوچکے تھے۔چار سال قبل 2009ء میں وہ امریکی شہری بننے کا موقع گنوا بیٹھی تھیں۔

خوئیکانی کی عمر جب ترانوے برس تھی تو ان کے خاوند کے دماغی سرطان میں مبتلا ہونے کا پتا چلا تھا اور وہ ان کی دیکھ بھال کے لیے واپس ایران چلی گئی تھیں۔2009ء میں جب خاوند کا انتقال ہوگیا اور وہ دوبارہ امریکا جانے لگیں تو حکومت نے ان کا گرین کارڈ منسوخ کرنے کی کوشش کی کیونکہ انھیں تب امریکا سے ایران گئے ہوئے چھے ماہ سے زیادہ عرصہ ہوچکا تھا۔

اس کے بعد ان کی بیٹی خاشا دوراں ایران واپس آئیں اور وہ ایک طویل قانونی عمل کے بعد والدہ کو واپس لاس اینجلس لے جانے میں کامیاب ہوگئیں۔اس تمام تلخ تجربے کے باوجود خوئیکانی کے چہرے پر کوئی تناؤ نہیں تھا بلکہ جب وہ امریکی شہریت کا حلف اٹھا چکیں تو ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ''دنیا میں اس سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں