.

اٹلی: مسافر بس کو حادثہ، 36 افراد لقمہ اجل بن گئے

حادثہ ڈرائیور کی اونگھ یا بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی میں ایک مسافر بس کے حادثے میں 36 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حادثہ ملک کے ایک جنوبی حصے میں پیش آیا جہاں بس ایک فلائی اوور سے نیچے جا گری۔

یہ حادثہ اتوار کی شب اٹلی کے جنوبی علاقے کامپانیا کے ایک ٹاؤن اویلینو کے قریب پیش آیا۔ بس میں سے 40 سے زائد مسافر کامپانیا میں زیارت کے بعد نیپلز لوٹ رہے تھے۔

اطالوی میڈیا کے مطابق کوچ کا ڈرائیور بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے جبکہ زخمیوں میں متعدد بچے شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے "اے ایف پی" نے ہلاکتوں کی یہ تعداد امدادی ٹیموں کے حوالے سے بتائی ہے۔

قبل ازیں اٹلی کی نیوز ایجنسی اے این ایس اے کے سیزر اباتے کا کہنا تھا: ’’اوور پاس سے نیچے سانحے کے مقام پر، سفید چادروں میں لپٹی تقریباﹰ 30 لاشیں سڑک کے کنارے رکھی ہیں۔‘‘

حادثے کے فوراﹰ بعد پولیس کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’’میں ابھی ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ ہم ابھی تک لوگوں کو گاڑی سے نکال رہے ہیں۔ ہماری ترجیح زخمیوں کو نکالنا ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد نیپلز باری ہائی وے ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے امدادی ٹیم کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا تھا کہ بس سے گیارہ افراد کو زندہ نکالا گیا جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔ اے ایف پی نے جائے حادثہ پر موجود اپنے ایک فوٹو گرافر کے حوالے سے بتایا کہ مسافر کوچ فلائی اوور سے تیس میٹر نیچے جا گری۔ انہوں نے بتایا فلائی اوور پر اس کوچ سے ٹکرانے والی کاریں بھی ایک دوسری پر چڑھ گئیں۔

وہاں موجود امدادی کارکنوں نے بتایا کہ کوچ پہلے متعدد کاروں سے ٹکرائی جس کے بعد فلائی اوور سے نیچے جا گری۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس دوران بعض مسافر بس سے نیچے گر گئے۔

امدادی ٹیم کے سربراہ پیلیگرینو آئیاندولو نے اسکائی ٹی جی 24 ٹیلی وژن سے گفتگو میں بتایا: ’’صورتِ حال نازک ہے۔ ہمارے لوگ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق جائے حادثہ تک پہنچنے میں مشکل امدادی کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت ایسا لگا جیسے بس میں بریک کا کوئی مسئلہ ہو۔ بعض دیگر لوگوں کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آیا ڈرائیور سو گیا تھا یا پھر بس کا ٹائر پھٹ گیا تھا۔