.

موسیقی کو حرام ٹھہرانے والے کشمیری مفتی خود میوزک کے دل دادہ نکلے

علامہ بشیر الدین ماہ صیام میں بینڈ کی دھنوں پر جھومتے پکڑے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مذہبی حلقوں میں موسیقی کی حِلت اور حُرمت کی بحث کوئی نئی بات نہیں لیکن موسیقی کو مطلق حرام ٹھہرانے والے ہی جب ڈھول کی تھاپ اور بینڈ کے دھنوں پر رقص کرنے لگیں تو حیرت فطری بات ہے۔ کچھ ایسا ہی واقعہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے ایک سرکردہ عالم دین کا ہے، جن کی وجہ شہرت ہی موسیقی کو حرام قرار دینے کے ایک فتوی تھا، لیکن موصوف حال ہی میں ماہ صیام کے بابرکت ایام میں خود بھی ایک متنازعہ موسیقی بینڈ کی ساز و آواز پر جھومتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جس کے بعد سماجی، عوامی اور مذہبی حلقوں میں ایک نئی بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق علامہ بشیرالدین احمد مقبوضہ کشمیر کے سرکردہ علماء اور مفتیان دین متین میں شمار ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ کےعالمی سرچ انجن "گوگل" پر اُنہیں تلاش کیا جائے تو ان کا نام لکھتے ہی پہلا نتیجہ ان کے ایک فتوے کا سامنے آتا ہے، جو انہوں نے رواں سال فروری میں جاری کیا تھا۔ اس فتوے میں انہوں نے نہ صرف موسیقی کو حرام اور گناہ قرار دیا بلکہ کئی موسیقی پرسخت تنقید کرتے ہوئے انہیں 'گمراہ' تک کے القابات دیے ہیں۔ انہی میں "پرگاش بینڈ" کا نام بھی شامل ہے۔

حال ہی میں کشمیرمیں منعقدہ ایک محفل موسیقی کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ "یو ٹیوب" پر تیزی سے مقبول ہونا شروع ہوئی ہے، جس میں علامہ بشیرالدین کو متنازعہ "پرگاش بینڈ" کے موسیقاروں کے جھرمٹ میں بیٹھے"راک اینڈ رول" موسیقی سے لطف اٹھاتے دکھایا گیا ہے۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ مفتی بشیرالدین نے موسیقی کی حرمت سے متعلق فتوے میں"پرگاش بینڈ" کی موسیقی کو بھی حرام قرار دیا تھا۔ ویڈیو میں علامہ صاحب کے پہلو میں ایک خاتون کو جلوہ افروز دیکھا جا سکتا ہے جو کہ ان کی اہلیہ نہیں بلکہ محفل میں شریک کوئی غیرمحرم خاتون ہی ہیں۔

خیال رہے کہ "پرگاش بینڈ" یا "صبح نو" نامی بینڈ وادی کشمیر کا ایک مشہور موسیقی گروپ ہے جو تین خواتین ارکان پر مشتمل ہے۔ علامہ بشیرالدین نے فروری میں جاری اپنے فتوے میں قراردیا تھا کہ "ویسے موسیقی کی تمام شکلیں حرام ہیں لیکن ایسی موسیقی کی توقطعاً کوئی گنجائش ہی نہیں جس میں خواتین شامل ہوں۔ ان کے اس فتوے کے بعد وادی میں"پرگاش بینڈ" کی سرگرمیاں بند کردی گئی تھیں۔

تاہم ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ علامہ صاحب کے اس فتوے کا اطلاق خود ان کی ذات پرنہیں ہوتا۔ وہ خود ایسی کسی بھی محفل میں جا سکتے ہیں لیکن اگر ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ ایسے کسی بینڈ کی حمایت کریں تو یہ ناقابل برداشت ہے۔ عمرعبداللہ نے جب مقبوضہ کشمیر میں موسیقی کو فروغ دینے والے "پرگاش بینڈ" کے ارکان کو نئی دہلی میں پناہ دلوانے کی سفارش کی تو علامہ بشیرالدین ان پر برس پڑے تھے۔

علامہ بشیرالدین کے موسیقی کی حرمت سے متعلق فتوے کو بھارتی سیاسی جماعتوں اور میڈیا میں بھی خوب اچھالا گیا ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت "بھارتیا جنتا پارٹی" کے ترجمان بالبیر بونگ کا کہنا ہے کہ طالبان کی شدت پسندانہ تعلیمات کو وادی کشمیر میں بھی پھیلانے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر مختلف قومیتوں پر مشتمل ریاست ہے جس میں ہندو اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی بھی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ عمرعبداللہ نے"پرگاش بینڈ" کی حمایت کر کے مستحسن قدم اٹھایا لیکن ان پر تنقید کرنے والے مفتی صاحب کشمیر میں طالبنائیزیشن کو فروغ دے رہے ہیں۔