.

تیونس میں 17 دسمبر کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان

انتہا پسندوں کے حملے میں 8 فوجیوں کی ہلاکت پر تین روزہ قومی سوگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حکومت نے حزب اختلاف کے مظاہروں کے بعد 17 دسمبر کو آیندہ عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے جبکہ انتہا پسندوں کے حملے میں 8 فوجیوں کی ہلاکت پر ملک میں تین روزہ قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم علی العریض نے دارالحکومت تیونس میں کابینہ کے اجلاس کے بعد پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ نئے آئین کی تدوین کا کام 23 اکتوبر تک مکمل ہوجائے گا اور اس کے بعد 17 دسمبر کو آیندہ عام انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔

قبل ازیں انھوں نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''حکومت اقتدار میں رہے گی لیکن ہم اقتدار سے چمٹے نہیں رہنا چاہتے ہیں بلکہ ہمارا ایک فرض اور ذمے داری ہے جس کو ہم اپنی مدت کے اختتام تک انجام دیتے رہیں گے''۔

واضح رہے کہ عام انتخابات کے لیے 17 دسمبر کی تاریخ کا اعلان بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔2010ء میں اسی تاریخ کو تیونسی انقلاب کی بنیاد پڑی تھی اور اس روز ایک پھل فروش نوجوان محمد بوعزیزی نے وسطی شہر سیدی بوزید میں خودسوزی کر لی تھی۔اس کی موت پر تیونس میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور ملک گیر عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی سعودی عرب فرار ہوگئے تھے۔

قومی سوگ

درایں اثناء تیونس کے آٹھ فوجیوں کی ہلاکت پر آج منگل سے تین روزہ قومی سوگ منایا جارہا ہے۔ان کی لاشیں الجزائر کی سرحد کے ساتھ واقع جبل شعانبی کے علاقے سے ملی تھیں۔وہ وہاں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھے۔

تیونس کی وزارت دفاع نے آٹھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن قبل ازیں فوجی ذرائع نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جنگجوؤں نے نو فوجیوں کو قتل کیا تھا اور ان میں سے بعض کو بے دردی سے ذبح کیا گیا تھا۔سرکاری ٹیلی ویژن نے مقتولین کی مسخ شدہ لاشوں کی تصاویر نشر کی ہیں۔

تیونس کے صدر منصف مروزقی نے ایک نشری تقریر میں فوجیوں کی ہلاکت پر قومی اتحاد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اگر ہم اس خطرے کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسا متحد ہو کر کرنا ہوگا''۔انھوں نے ملک کے سیاسی طبقے پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی جانب لوٹ آئے کیونکہ ملک اور معاشرہ خطرے میں ہیں۔

تیونسی حکومت سے گذشتہ جمعرات کو حزب اختلاف کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک لیڈر محمد براہیمی کے قتل کے بعد مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔تیونس کے انتہا پسندوں پر محمد براہمی کے قتل کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ان کا تعلق بھی سیدی بوزید سے تھا۔ان کی تدفین کے موقع پر تیونس کی جائے انقلاب میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

تیونس میں تشدد کے حالیہ واقعات اور حکومت مخالف مظاہروں کے بعد قومی اسمبلی کے ساٹھ سے زیادہ ارکان مستعفی ہوچکے ہیں اور وہ حکومت کے بھی خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس مطالبے کے حق میں ہزاروں افراد نے دارالحکومت تیونس میں قومی اسمبلی کے باہر احتجاج کیا ہے۔