.

مصرکی فوجی امداد روکنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا: ترجمان وائٹ ہاوس

قاہرہ اور سکندریہ میں مظاہرین کا قتل قابل مذمت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ہفتے کے روز قاہرہ میں کم از کم 80 مظاہرین کے لقمہ اجل بنائے جانے کی مذمت کی ہے، تاہم مصر میں منتخب اور جمہوری صدر مرسی کی برطرفی اور درجنوں مظاہرین کے قتل کی بنیاد پر مصری کی امداد روکنے کا فی الحال فیصلہ نہیں کیا ہے۔

وائٹ ہائوس کے ترجمان جاش ارنیسٹ نے مصر کی صورتحال پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ مصر میں تشدد کی تازہ لہر کے نتیجے میں اب تک کم از کم 80 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ یہ عمل مصری عبوری حکومت کے اس عہد کی صریح نفی کرتا ہے جس کے مطابق وہ سویلین حکومت کی بحالی کے لئے انتہائی تیزی سے کام کرنے کی پابند ہے۔ اس واقعے سے مصر میں جاری جمہوری عمل کو نقصان پہنچا ہے ۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان کے مطابق "امریکا قاہرہ اور اسکندریہ میں ہونے والے قتل عام اور تشدد کی سخت مذمت کرتا ہے۔ نیز فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مظاہرین کے حقوق کا احترام کرے۔

اس موقع پرجب ترجمان وائٹ ہاوس سے پوچھا گیا کہ کیا اس تشدد کے نتیجے میں امریکا مصری فوج کو دی جانے والی امداد روک دے گا ؟ تو ارنیسٹ کا کہنا تھا کہ"اس بارے میں ہمارے موقف میں ابھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ'' امداد کو روکنے کے فیصلے پر ابھی تک غور ہو رہا ہے۔''