.

''فضا میں محبت ہو گی'': سعودی ائیر ہوسٹس کی غیر ملکی سے فلرٹنگ

فضائِی میزبان کو ٹوکنے پر پولیس افسر اورعالم دین کو خمیازہ بھگتنا پڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ فضائی سفر کے دوران خاتون میزبانوں سے دل لبھانے کی کوشش کرنے والے مسافروں کو مشکلات کا شکار ہونا پڑا ہے لیکن کبھی کبھی معاملہ اس کے برعکس بھی پیش آ سکتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ سعودی عرب میں پیش آیا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ریاض سے جدہ جانے والے پرواز میں سوار دو سعودی مردوں کو ایک ''فلرٹی'' فضائی میزبان کو ٹوکنا مہنگا پڑ گیا ہے اور روایتی اقدار والفاظ کا احترام نہ کرنے والی فضائی میزبان کی شکایت پر ان دونوں مسافروں کو طیارے سے اترنا پڑا ہے۔

ان میں سے ایک مسافر عالم دین ہیں۔ ان کا نام خالد بن عبدالرحمان المحیضہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ عرب نژاد فضائی میزبان طیارے میں ایک غیر ملکی کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس دوران انھوں نے اس خاتون کو ٹوکا۔

عالم دین نے ایک سعودی روزنامے کو بتایا کہ گذشتہ منگل کو سفر کے دوران اس فضائی میزبان نے غیر ملکی کو ''حبیبی'' کہہ کر پکارا۔عربی میں اس اصطلاح کا لفظی مطلب میرے پیارے ،میرے محبی وغیرہ ہیں لیکن اہل عرب کسی کا استہزاء اڑانے کے لیے بھی اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔

''حبیبی'' کے استعمال سے پیدا ہونے والے تنازعے سے سعودی ائیرلائنز کی پرواز ایک گھنٹے سے بھی زیادہ تاخیر کا شکار ہوگئی تھی۔ علامہ محیضہ کا کہنا تھا کہ ائیرہوسٹس نے قواعد وضوابط اور روایتی اقدار و روایات کی خلاف ورزی کی تھی اور اس نے طیارے میں سوار مسافروں اور ان کی فیملیوں کا بھی خیال نہیں کیا۔

طیارے میں سوار ایک پولیس افسر نے بھی اس خاتون کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کا انداز تخاطب درست نہیں ہے۔اس نے ان کی نصیحت کو قبول کرنے کے بجائے اس کا برا مانا اور نہایت درشت لہجے میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا ۔

اس کے بعد اس فضائی میزبان کو تو کسی نے کچھ نہیں کہا۔البتہ اس کی شکایت پر سکیورٹی اہلکاروں کو طیارے میں طلب کر لیا گیا اور انھوں نے عالم دین اور پولیس افسر کو ان کے بیوی بچوں سمیت طیارے سے اتار دیا۔

علامہ محیضہ کا کہنا ہے کہ اب سعودی عرب کا ادارہ تحقیقات اور پبلک پراسیکیوشن اس واقعہ کی تحقیقات کر رہا ہے۔ انھوں نے تفتیش کاروں سے درخواست کی ہے کہ وہ فضائی میزبان کے خلاف روایتی اقدار کی پاسداری نہ کرنے اور ان کے اور پولیس افسر کے خلاف بدتمیزی کے الزام میں کارروائی کی جائے۔