افغان جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں 23 فی صد اضافہ

مزاحمت کاروں کے حملوں اور لڑائی میں شہریوں کی ہلاکتیں بڑھ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں جاری جنگ میں طالبان کے حملوں اور مزاحمت کاروں اور سرکاری فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران ہلاکتوں میں 23 فی صد اضافہ ہوگیا ہے۔

جنگ زدہ ملک میں اقوام متحدہ کے معاون مشن نے بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ یکم جنوری سے 30جون تک تشدد کے واقعات میں 1319 شہری ہلاک ہوئے تھے اور 2533 زخمی ہوئے تھے۔یہ تعداد گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 23 فی صد زیادہ ہے۔

مشن کے مطابق شہریوں کی کل ہلاکتوں میں چودہ فی صد اور زخمیوں کی تعداد میں 28 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ سہ 2012ء میں افغانستان میں جاری جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی واقع ہوئی تھی لیکن اس سال ان میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی 74 فی صد ہلاکتیں مزاحمت کاروں کے حملوں کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔9 فی صد حکومت نواز فوجوں اور 12 فی صد ہلاکتیں مزاحمت کاروں اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں کے سبب ہوئی ہیں۔چار سے پانچ فی صد ہلاکتیں دھماکا خیز مواد کے پھٹنے سے ہوئی ہیں لیکن ان کو کسی ایک فریق کے کھاتے میں نہیں ڈالا گیا۔

مزاحمت کاروں کے بم حملے شہریوں کی ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔اس کے بعد افغان فورسز اور مزاحمت کاروں کے درمیان زمینی لڑائی میں عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت افغان فورسز ملک بھر میں تمام فوجی کارروائیوں کی قیادت کررہی ہیں لیکن اس کے باوجود افغان سکیورٹی فورسز کے اداروں مِیں ایسا کوئی منظم ڈھانچا موجود نہیں ہے جو شہریوں کی ہلاکتوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرسکے اور ذمے داروں کے خلاف انضباطی کارروائی کرسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں