.

پوتین کا سعودی انٹیلی جنس چیف سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال

شہزادہ بندر کا شام میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں دورۂ روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان نے ماسکو میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی ہے اور ان سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی خبررساں اداروں کو بتایا ہے کہ '' ملاقات میں سعودی عرب اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات سمیت شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے''۔

تاہم ترجمان نے روسی صدر اور شہزادہ بندر کی ملاقات میں زیر بحث آنے والے دوسرے موضوعات کی تفصیل نہیں بتائی۔ شہزادہ بندر امریکا میں ایک طویل عرصے تک سعودی عرب کے سفیر رہے ہیں اور اس وقت وہ مملکت کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ ہیں۔

ان کے دورے کو تنازعہ فلسطین کو طے کرنے کے لیے اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے درمیان امریکا کی ثالثی میں تین سال کے تعطل کے بعد براہ راست مذاکرات کی بحالی اور شام میں جاری خونریز خانہ جنگی کے تناظر میں اہم خیال کیا جا رہا ہے۔

روس شامی صدر بشار الاسد کی بھرپور حمایت کر رہا ہے اور ان کی رخصتی سے متعلق کسی بھی تجویز کو مسترد کرتا چلا آ رہا ہے جبکہ سعودی عرب شامی فوج کے خلاف بر سر پیکار باغی جنگجوؤں کی حمایت کر رہا ہے لیکن وہ شامی باغیوں کو اس طرح اسلحہ اور دوسری امداد مہیا نہیں کر رہا ہے جس طرح روس کر رہا ہے۔