.

موریتانیہ کے خونی رشتے دار پڑوسی ملکوں کے کلیدی عہدوں پر تعینات

ایک بھائی مراکشی پارلیمان کا اسپیکر جبکہ دوسرا بھائی موریتانیہ میں وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقا میں ملکوں کی جغرافیائی سرحدوں نے قدیم دور سے چلے آئے قبائل اور معروف خاندانوں کو باہم تقسیم کر رکھا ہے۔ جغرافیائی تقسیم کے باوجود وہاں کی سیاست اور سماج میں دلچسپ ربط وتعلق بھی پایا جاتا ہے جس نے مزاحیہ صورت حال پیدا کردی ہے۔ موریتانیہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی خانوادے پڑوسی ملکوں میں بھی کلیدی عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔

موریتانوی خاندان کے افراد مختلف ملکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہتے ہوئے جہاں وہ اپنے اپنے ملکوں کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے پابند ہیں، وہیں اُنہیں دوسرے ملکوں میں موجود اپنے خونی رشتوں سے بھی باہم مربوط کر رکھا ہے۔ خونی رشتوں کی سیاسی بنیاد پرتقسیم کی سب سے منفرد مثال موریتانیہ اور اس کے پڑوسی ملکوں میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں دو سگے بھائی، چچا، بھتیجا یا اسی نوعیت کے دیگر قریبی رشتہ دار دہری شہریت بھی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے اپنے ملکوں میں اعلیٰ حکومتی عہدوں پر بھی متمکن ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق افریقی ممالک موریتانیہ، سینیگال اورمراکش میں تقسیم ان قبائل کو ملکوں کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی تقسیم کے باعث پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، لیکن سرحد کے آر پار تقسیم خاندان اپنی سیاسی وابستگیوں کو بھی گلے سے لگائے ہوئے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال مراکش میں الدی ولد سیدی باب اور ان کے بھائی احمد ولد سیدی باب کی بیان کی جا سکتی ہے۔ الدی ولد سیدی باب مراکش کے سرکردہ سیاست دان ہیں جو مراکش کی پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے ہیں، جبکہ ان کے سگے بھائی احمد ولد سیدی باب موریتانیہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔

مراکشی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر الدی ولد سیدی باب کے ایک کزن معاویہ ولد الطائع پڑوسی ملک موریتانیہ کے صدر رہے ہیں۔ الدی ولد باب نے مراکش کی شہریت حاصل کرنے کے بعد وہاں کی سیاست میں حصہ لیا اور تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے گئے۔ مراکش میں اپنے سیاسی کیریئر میں وہ شاہی دفتر کے نگران، اقوام متحدہ میں مراکش کے سفیر، وزیر تعلیم اور متعدد مرتبہ قومی اسمبلی کے اسپیکرکے عہدے پر تعینات رہے۔

دوسری جانب ان کے بھائی احمد ولدی سیدی باب بھی موریتانیہ میں مختلف وزارتوں پرمتمکن ہوئے اور کچھ عرصہ تک اپوزیشن پارٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

موریتانوی خاندانوں کی خونی وحدت اور سیاسی تقسیم کی ایک دوسری مثال بامامادو سامپاولی اور ان کے خاندان کی ہے۔ بامامادو سامپاولی سابق موریتانوی صدر ولد دادا کی حکومت میں وزیرمالیات کے عہدے پر فائز رہے جبکہ ان کے بھائی سینیگال کے سابق صدر لیوبولدا سیدار سنگور کے دور میں وزیر رہے ہیں۔

کچھ شخصیات موریتانیہ اور دوسرے پڑوسی ملکوں میں بھی دوہرے عہدوں پر فائز رہیں۔ ان میں الشیخ ولد حرمہ ولد بابانا موریتانیہ میں وزارت صحت کے عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں وہ مراکش چلے گئے جہاں وہ شاہی محل کے طیب خاص رہے۔ اسی طرح ڈاکٹر محمد مختار موریتانیہ میں وزارت کا قلم دان سنھبالا۔ مراکش منتقل ہونے کے بعد وہ وہاں بھی سرگرم رہے۔ مراکشی حکومت نے انہیں ایک مرتبہ بیرون ملک سفیرمتعین کیا۔ بعد ازاں وہ ریڈیو و ٹیلی ویژن کارپوریشن آف مراکش کے ڈائریکٹر جنرل تعینات ہوئے۔