.

یمن میں امریکی ڈرون حملہ، القاعدہ کے چار مشتبہ ارکان ہلاک

حملہ جنوبی صوبے حضرالموت میں جمعرات کے روز کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں جمعرات کے روز کئے جانے والے امریکی ڈرون کے میزائل حملے میں القاعدہ کے چار مشتبہ ارکان ہلاک ہو گئے۔ گذشتہ پانچ دنوں کے دوران کیا جانے والا یہ تیسرا حملہ ہے۔

ایک یمنی سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ "ڈرون حملہ یمن کے جنوبی صوبہ حضرالموت میں کیا گیا، جہاں پر جزیرہ نما عرب کی القاعدہ کے ارکان نے سیکیورٹی حکام پر متعدد حملے کئے ہیں۔ ڈرون حملے میں وادی سیر کے علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں چار افراد مارے گئے۔

امریکہ نے گذشتہ دو برسوں کے دوران یمن میں القاعدہ کے ارکان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے۔ واشنگٹن میں قائم نیو امریکا فائونڈیشن نامی تھنک ٹینک کے مطابق سال 2012 کے دوران یمن میں ہونے والے حملوں کی تعداد 2011ء کے حملوں سے تقریبا تین گنا زیادہ تھی۔ سال 2011 میں 18 ڈرون حملے ہوئے تھے جبکہ سال 2012 کے دوران ان حملوں کی تعداد 53 تک پہنچ گئی تھی۔

امریکی حکومت یمن اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے القاعدہ جنگجووں پر مشتمل جزیرہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ شاخ کو بین الاقوامی جہادی نیٹ ورک کی سب سے متحرک اور خطرناک شاخ قرار دیتی ہے۔

یہ حملہ یمنی صدر کی جانب سے واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات سے کچھ دیر قبل ہی پیش آیا ہے۔ یاد رہے کہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات کے لئے واشنگٹن میں موجود ہیں۔ واشنگٹن سابق صدر علی عبداللہ صالح کے اقتدار سے بیدخلی کے بعد قائم ہونے والی یمنی حکومت کو یمن کے شورش زدہ حصوں پر اپنا اثر قائم کرنے کے لئے پوری حمایت فراہم کررہا ہے۔