.

بنگلہ دیشی عدالت نے جماعت اسلامی کو غیرقانونی قرار دے دیا

جماعت پر آیندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے ملک کی بڑی مذہبی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور اس پر آیندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عاید کردی ہے۔

ڈھاکا میں تین ججوں پر مشتمل عدالت کے پینل نے جماعت کے خلاف دائر درخواست پر جمعرات کو یہ فیصلہ سنایا ہے اور قرار دیا ہے کہ جماعت اسلامی کا چارٹر ملک کے سیکولر دستور کے منافی ہے۔جماعت اسلامی کے خلاف دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس کوایک سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹریشن کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔

عدالت کے سنئیر جج معظم حسین نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ ''جماعت کی رجسٹریشن کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے''۔ اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی جنوری 2014ء میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کی اہل نہیں رہی ہے اور وہ اپنے امیدوار الیکشن میں کھڑے نہیں کرسکتی ہے۔

بنگلہ دیشی الیکشن کمیشن کے ترجمان شاہدین ملک نے کہا کہ ''جماعت اسلامی کی الیکشن کمیشن میں سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے، البتہ وہ دوسری سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔ اگر وہ اپنے چارٹر میں ترامیم کرتی ہے اور اس کو دستور سے ہم آہنگی بنالیتی ہےتو وہ دوبارہ رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتی ہے اور اس کو دوبارہ رجسٹر کیا جا سکتا ہے''۔

تاہم جماعت اسلامی کے وکیل تجمل الاسلام نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کریں گے۔جماعت کے ایک سنئیر عہدے دار عبداللہ طاہر نے اس عدالتی فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ تینوں جج وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے دباؤ کے آگے جھک گئے ہیں اور اس سے حکومت کی منشاء کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے بعد جلد نئے سیاسی پروگرام کا اعلان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا۔

عدالت کے اس فیصلے کے ردعمل میں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے کارکنان کی جانب سے نئے احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے اوراس سے ملک میں تشدد کی نئِی لہر شروع ہوسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف حالیہ مہینوں کے دوران جنگی جرائم کے مقدمات کے فیصلوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا اور احتجاجی مظاہروں کے دوران کم سے کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اب تک جماعت اسلامی کے تین سنئیر عہدے داروں کو جنگی جرائم کے مقدمات مِیں سزائے موت سنائی جاچکی ہے اور متعدد کے خلاف قتل عام ،خواتین کی آبروریزی اور مذہبی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے سن 2010ء میں 1971ء کی جنگ میں بنگلہ دیش کے قیام کے مخالفین اور پاکستان کے حامیوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے ایک خصوصی ٹرائبیونل قائم کیا تھا۔بنگلہ دیش کی اس خصوصی عدالت نے چند ماہ قبل جماعت اسلامی کے سابق سربراہ پروفیسر غلام اعظم کو 1971ء کی جنگ کے دوران نسل کشی ، انسانیت مخالف جرائم اور قتل کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔

جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اس خصوصی عدالت کو ''شوٹرائل''قرار دے کر مسترد کرچکی ہیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس ٹرائبیونل میں مقدمے کی سماعت کے لیے اختیار کردہ طریق کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے بانی قراردیے جانے والے لیڈر مقتول شیخ مجیب الرحمان کی جماعت اور ملک کی موجودہ حکمران عوامی لیگ اور اس کے حامی 1971ء کی جنگ کی اپنے انداز میں تعبیروتشریح کرتے چلے آرہے ہیں اور وہ اس کو آزادی کی جنگ قراردیتے ہیں جبکہ پاکستان اور اس کے حامی طبقے اس جنگ کے دوران پیش آئے واقعات کو اور طرح سے بیان کرتے ہیں اوروہ عوامی لیگیوں کو بھی جنگ کے دوران پیش آئے واقعات کا برابر کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔

عوامی لیگ کی حکومت کا کہنا ہے کہ 1971ء کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج اور اس کی حامی مقامی تنظیموں نے تیس لاکھ لوگوں کا قتل عام کیا تھا لیکن آزاد اور غیر جانبدار مورخین ہلاکتوں کے ان اعداد وشمار کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ کے لیڈر سقوط مشرقی پاکستان کی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کررہے ہیں اور وہ اس جنگ میں بھارت اور دوسری غیرملکی طاقتوں کے مکروہ کردار کو یا تو بالکل گول کرجاتے ہیں یا پھر اس کو معروضی انداز میں پیش کرنے سے گریز کرتے چلے آرہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جنگ کے وقت زمینی حقائق ان کے یک طرفہ موقف کی تائید نہیں کرتے ہیں۔