احمدی نژاد کی غیر مقبولیت کے ساتھ سبکدوشی

وہ ہولو کاسٹ کو چیلنج کرنا اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی صدر احمدی نژاد منصب صدارت سے سبکدوش اور ان کی جگہ نئے صدر حسن روحانی آج [بروز ہفتہ] حلف اٹھا کر صدارتی ذمہ داری پر فائز ہو گئے ہیں۔ دو صدارتی مدتیں پوری کرنے والے احمدی نژاد مجموعی طور پر آٹھ برس تک ایران کے ریاستی سربراہ اور چیف ایگزیکٹو رہے۔ صدارتی امیدوار کے طور پر اپنی پہلی انتخابی مہم انہوں نے ''غربت زدگان کی مدد، معاشی استحکام، ذرائع ابلاغ اور نوجوانوں کے لیے زیادہ آزادی کے نعروں کی بنیاد پر چلائی۔"

اب منصب صدارت سے فراغت کے مرحلے پر احمدی نژاد ایرانی یونیورسٹی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے اثرو رسوخ کو بحال رکھنے اور خود کو سیاست میں موجود رکھنے کے لیے انہوں نے انتظامیہ کو حکم دے رکھا ہے کہ سابق صدور کا ایک دفتر قائم کیا جائے، جس کی ڈائریکٹرشپ احمدی نژاد کے پاس ہو۔ ایران میں قائم آریا سٹریٹجک سٹڈیز سنٹر کے سربراہ امیر محبیان کے مطابق متعدد کتب کی طباعت کے علاوہ اپنی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لانا بھی احمدی نژاد کے پیش نظر ہے تا کہ انہیں پسند کرنے والے ایرانیوں کوایک پلیٹ فارم فراہم ہو سکے۔

لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ ''احمدی نژاد صدارت سے فراغت کے بعد بھی ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کی صورت گری کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے یا نہیں؟ کہ وہ سابق ایرانی صدور میں سے سب سے زیادہ متنازعہ اور شعلہ بیان صدر رہے ہیں۔ بطور صدر وہ واحد ایسے صدر رہے جس نے تقریبا ہر شعبے کی ریاستی انتظامیہ کو اپنے خلاف کر لیا، حتی کہ ایرانی رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی مسٹر احمد نژاد کی صدارت کے آخری دنوں میں ان سے اکتاہٹ ظاہر کرنا شروع کر دی تھی۔ علی خامنہ ای نے ان سیاسی شخصیات کی دوبارہ تقرریاں کیں جنہیں احمد ی نژاد نے ذمہ داریوں سے الگ کر دیا تھا، نہ صرف یہ بلکہ صدر کی گئی تقرریوں کوغیر قانونی قرار دے دیا۔

پاسداران انقلاب، ایرانی علماء اور پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت نے احمدی نژاد کی پہلی مدت صدارت کے لیے کھل کر حمایت کی تھی، تاہم دوسری مدت صدارت کے دوران ان کی حمایت کمزور پڑ گئی اور انہوں نے احمدی نژاد کے مواخذے کی کوشیش بھی کیں۔ عوامی سطح پر نژاد کی مقبولیت کا گراف بھی نیچے ہی نیچے گرتا گیا۔

احمدی نژاد کے دور صدارت میں بے روز گاری دو گنا ہو گئی، افراط زر 32 فیصد تک پہنچ گیا، معاشی شرح نمو آٹھ فیصد تک رہ گئی۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق 2013 میں شرح نمو ایک اعشاریہ مزید نیچے آ جائے گی۔

انہوں نے مغربی ممالک کے ہولو کاسٹ کے تصور کو 'جھوٹ' قرار دیا اور کہا کہ 'ہولو کاسٹ فلسطین پر قبضے کا جواز نہیں بن سکتا۔' ستمبر 2010 میں اقوام متحدہ سے اپنے ایک خطاب کے دوران احمدی نژاد نے کہا ''امریکی حکومت میں موجود بعض عناصر نے ہی نائن الیون کے واقعے کی یہ تان اٹھائی تاکہ امریکہ کی گرتی ہوئی معیشت کوسنبھالا دیا جا سکے، مشرق وسطی میں صہیونی رجیم کو بچایا جا سکے۔''


ستمبر 2007 کے دوران کولمبیا یونیورسٹی میں اپنے خطاب میں نژاد نے کہا ''ایران میں امریکہ کی طرح ہم جنس پرستی نہیں ہے'' اور اب اپنے اعزاز میں ہونے والی تقریب کے موقع پر کہا ان کی سب سے بڑی کامیابی ''ہولو کاسٹ ''کو چیلنج کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا ہولوکاسٹ کو'شجر ممنوعہ' بنا کر رکھا گیا تھا، اس موضوع پر مغرب میں کسی کو کچھ کہنے کی اجازت نہ تھی۔ ہم نے اسے عالمی سطح پر پیش کیا جو کہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی کمر توڑنے کے مترادف تھا،''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں