تیونس: بری اور فضائی افواج کا اسلام پسندوں کے خلاف آپریشن

آپریشن الجزائر سے ملحقہ سرحدی پہاڑوں میں شروع کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کی بری فوج اور فضائیہ نے اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف جمعہ کی صبح سے ایک آپریشن شروع کیا ہے، تاکہ الجزائر کی سرحد سے متصل پہاڑوں میں پناہ لینے والے ان عسکریت پسندوں کا تعاقب کیا جا سکے، بیک وقت بری اور فضائی افواج کی طرف سے اسلام پسندوں کے خلاف حالیہ عرصے میں شروع کیا گیا یہ پہلا بڑا فوجی آپریشن ہے۔ یہ انکشاف تیونس کی مسلح افواج کے ترجمان کی طرف سے کیا گیا ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق یہ کارروائی جمعرات کی شب دہشت گرد گروپوں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان ہونے والے ٹکراو کے بعد شروع کی گئی ہے۔ واضح رہے گزشتہ ایک ہفتے سے تیونس میں تشدد کے واقعات اور کشیدگی چل رہی ہے ، جبکہ صرف پیر کے روز الجزائر سے ملحق سرحدی علاقے چامبی پہاڑی میں اسلامی عسکریت پسندوں کی ایک کارروائی کے دوران آٹھ تیونیسی فوجی مارے گئے تھے۔ جمعرات کے روز تیونس کے فوجی دستوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے بعد عسکریت پسندوں کو گھیرے میں لینے کے لیے آپریشن شروع کیا گیاہے۔

اسی روز الجزائر نے بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے تیونس کے ساتھ لگنے والی اپنی سرحد پر از سر نو فوج بھیج دی ہے۔ الجزائری وزیر داخلہ کے مطابق یہ اقدام تیونس میں جاری گڑ بڑ کی وجہ سے کیا گیا ۔ واضح رہے تیونس کے رہنما زین العابدین کی معزولی کے بعد جہاد پر یقین رکھنے والے مضبوط ہو گئے ہیں اور انہیں تیونس کے ان مسلح گروپوں کو جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں الجزائر اور تیونس دونوں کی افواج کی سرحدوں پر تعداد اور نقل حرکت بڑھ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں