گرین لینڈ جزیرے میں 'عربی کولمبس' کا 21 گھنٹوں پر محیط روزہ

وسام الزقیر برف پوش جزیرے میں ریستوران چلاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

موسم گرما میں رمضان المبارک کے روزے کا دورانیہ طویل ہونا فطری بات ہے ہے، خاص طور پر بعض یورپی ملکوں میں جولائی/اگست کے روزے کا دورانیہ 17 گھنٹے پر محیط ہوتا ہے، تاہم یہ بات اچھنبے کی ہے کہ کسی شخص کو 21 گھنٹے کا روزہ رکھنا پڑے۔ ایسی صورتحال کا سامنا گرین لینڈ جزیرے میں رہائش پذیر اکلوتے عرب مسلمان کو کرنا پڑ رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے رپورٹ کے مطابق بحر اوقیانوس اور بحر منجمد شمالی کے درمیان گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ سیاسی اعتبار سے ڈنمارک سے منسلک ہے تاہم یہ علاقہ خودمختار ریاست کا درجہ رکھتا ہے۔

شدید موسمی حالات کی وجہ سے یہاں آبادی زیادہ نہیں، اس لئے نیم خالی جزیرے میں کسی مسلمان عرب کی موجودگی انتہائی حیرت کا باعث ہے۔ رپورٹ کے مطابق لبنانی الاصل وسام الزقیر سارا سال برف سے ڈھکے رہنے والے اس جزیرے میں اکلوتا مسلمان عرب ہے۔

گرین لینڈ کے باسی وسام الزقیر کی اسی منفرد شناخت کی وجہ سے اسے 'عربی کولمبس' کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وسام، گرین لینڈ کے دارلحکومت نوک میں ایک ریستوران چلاتا ہے، جہاں دن میں کم سے کم 22 ریگولر صارف عربی کھانوں سے لفط اندوز ہونے آتے ہیں۔

انمید نامی پورٹل نے وسام کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے خود کو جزیرے کا اکلوتا مسلمان ہونے بہت زیادہ فخر کا اظہار کیا ہے۔ وہ اکیلا ہی اس برف پوش علاقے میں نماز روزے کا اہتمام کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وسام نے کئی مرتبہ رمضان اپنے اصلی وطن لبنان گذارنے کا پلان بنایا مگر پھر یہ سوچ کر ملتوی کر دیا کہ اگر وہ گرین لینڈ سے چلا گیا تو رمضان المبارک میں یہاں کوئی روزہ رکھنے، نماز پڑھنے اور آذان دینے والا باقی نہیں رہے گا۔

یاد رہے کہ گرین لینڈ جزیرے میں روزہ اکیس گھنٹے کا ہوتا ہے، اس لئے وسام کے پاس افطار کے بعد سحری کے لئے صرف دو گھنٹے بچتے ہیں، جس میں اس نے نماز عشاء، تراویح اور فجر بھی ادا کرنا ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں