فلسطینی خاتون کے ہاں خاوند کے اسمگل شدہ جرثومے سے بچے کی پیدائش

اسرائیلی جیل میں 25 سالہ قید کاٹنے والا فلسطینی باپ بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک فلسطینی خاتون نے اسرائیلی جیل میں قید اپنے خاوند کے اسمگل شدہ جرثومے سے حاملہ ہونے کے بعد بچے کو جنم دے دیا ہے۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی معان کی رپورٹ کے مطابق چونتیس سالہ لدا نے بدھ کو ایک صحت مند بیٹے کو جنم دیا ہے۔ اس کا خاوند عبدالکریم الرماوی اسرائیلی جیل میں پچیس سال کی قید بھگت رہا ہے۔ وہ گذشتہ بارہ سال سے جیل میں قید ہے۔

جیل سے الرماوی کا جرثومہ اسمگل کیے جانے کے بعد غزہ میں واقع رزان کلینک میں طبی عمل کے ذریعے لدا کو منتقل کیا گیا تھا۔ اس کلینک میں اس طرح خاتون کے حاملہ ہونے کے بعد یہ دوسرے بچے کا جنم ہے۔

سنہ 2012ء میں ایک اور فلسطینی خاتون دلال ربیعہ نے اسی کلینک میں ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ یہ خاتون بھی جیل میں قید خاوند کے اسمگل شدہ جرثومے سے آئی وی ایف علاج کے ذریعے حاملہ ہوئی تھی۔

اسرائیلی جیل کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا ہے کہ قیدیوں کی ان کے مہمانوں سے ملاقات کے دوران ان کے درمیان شیشے حائل ہوتا ہے اور شادی شدہ مردوں کو جیل میں ان کی بیویوں سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی۔

میڈیکل ذرائع کے مطابق سولہ خواتین نے اسرائیلی جیلوں میں قید اپنے خاوندوں کے جرثوموں سے حاملہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ جرثومے جیلوں سے پراسرار طریقے سے ان تک اسمگل کرکے پہنچائے گئے ہیں۔ اسرائیلی جیل سے جرثومے کیسے اسمگل کیے گئے تھے ،اس کی تفصیل سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں