.

احمدی نژاد کے دور اقتدار میں ایرانی معیشت کو آٹھ کھرب ڈالر کا نقصان

نژاد حکومت پر ماورا قانون اقدامات کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق 'سفید پوش' صدر محمود احمدی نژاد کی ایوان اقتدار سے غیر مقبول رخصتی کے بعد ان کی معاشی پالیسیوں سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ہوشربا اعداد و شمار سامنے آنے لگے ہیں۔ سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین ھاشمی رفسنجانی نے الزام عائد کیا ہے کہ محمود احمدی نژاد کے آٹھ سالہ دور اقتدارمیں ملکی معیشت کو کم سے کم آٹھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

ایران ڈیموکریٹک سینٹرکی رپورٹ کے مطابق گارڈین کونسل کے سربراہ نے یہ انکشاف اقتصادی ماہرین کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب میں کیا۔ ڈاکٹر رفسنجانی نے اپنے اور احمدی نژاد کے دور حکومت میں معاشی ترقی و تنزل کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ "سنہ 1988ء میں جب میں نے زمام کار سنھبالی تو ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ ایران پرعراق کے حملے اور فرسودہ پالیسیوں نے معیشت کی رگوں سے خون نچوڑ لیا تھا، لیکن اس کے باوجود ہم نے ایران کی آمدنی آٹھ ارب ڈالر سے بڑھا دی تھی۔ ہم نے کئی ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے شروع کیے، لیکن خزانہ پھر بھی خالی نہیں ہوا"۔

انہوں نے احمد نژاد کی معاشی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ "سابق صدر کے پاس ملکی معیشت کو سنھبالا دینے کے کئی مواقع تھے۔ حکومت آمدنی میں اضافہ کرنے والے منافع بخش منصوبے شروع کرکے معیشت کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط بنا سکتی تھی مگرغلط پالیسیوں کے نتیجے میں تمام مواقع ضائع کردیے گئے"۔

سابق انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ پچھلی انتظامیہ نے ماورا قانون اقدامات کیے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایسے ایسے کام کیے جو اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔

صدارتی انتخابات میں احمدی نژاد کے گروپ کی شکست اور حسن روحانی فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے دانشمندانہ قیادت کو ووٹ دے کر اسےکامیاب کیا ہے۔ اب تمام بوجھ حسن روحانی اور ان کی انتظامیہ کے کندھوں پر ہے کہ وہ درست سمت میں چلتے ہوئے ملکی معیشت کو تباہی سے بچائیں"۔

درایں اثناء نو منتخب صدر حسن روحانی کے مشیر احمد ترکان نے بھی احمدی نژاد اور ان کی حکومت کا حصہ رہنے والے سابق عہدیداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے کھربوں ڈالرز کی رقم بے مقصد اور غیرمنافع بخش منصوبوں پر ضائع کی۔ مسٹر ترکان نے استفسار کیا کہ "احمدی نژاد کے دور میں آٹھ سو ارب ڈالرز کی آمدن ہوئی، اتنی خطیر رقم کن منصوبوں پر اور کہاں کہاں خرچ کی گئی؟۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں اصلاح پسندوں، سابق صدر ہاشمی رفسنجانی اور احمد ترکان کی تنقید کے باوجود مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای احمدی نژاد کی حکومت میں ہوئے اقدامات کا بھرپور دفاع کر رہے ہیں۔ تمام حلقوں کی تنقید سے صرف نظر کرتے ہوئے سپریم لیڈر متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں"احمدی نژاد کی حکومت اپنی کارکردگی میں ایک کامیاب گورنمنٹ ثابت ہوئی ہے"۔