.

روس نے شام میں متعین عملہ اور ماہرین کو واپس بلانا شروع کر دیئے

چند افراد کے سوا باقی سب کو بلا لیا جائے گا: ماسکو ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں اعلی حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ ماسکو نے شام میں مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ماہرین اور دیگر شہریوں کو وطن واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ "العربیہ" ٹی وی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ شام میں موجود چند روسی ماہرین کے سوا باقی سب کو بلا لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بشارالاسد کی حامی روسی حکومت نے اپنے شہریوں کی واپسی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان دمشق میں فیصلہ کن لڑائی جاری ہے۔ باغیوں نے دمشق میں سرکاری فوج کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔

روسی حکومت بعض دیگر ملکوں کی طرح بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی مسلسل مخالفت کرتا چلا آ رہا ہے۔ ماسکو نے شامی حکومت کے خلاف اب تک منظور کی جانے والی عالمی اداروں کی کسی قرارداد کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل روسی صدر ولادی میر پوتین نے متنازعہ گولان کی چوٹیوں میں اقوام متحدہ کی امن فوجی دستوں میں اپنے فوجیوں کی شمولیت کی کوشش کی تھی، صدر اسد نے اس کی کھل کرحمایت جبکہ باغیوں کی نمائندہ جیش الحر نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔