القاعدہ سے پھر خطرہ ہے، امریکی صدر کو سیکورٹی حکام کی بریفنگ

وائٹ ہاوس میں سیکورٹی حکام کی بریفنگز میں خارجہ و دفاع کے وزراء بھی شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر باراک اوباما اور امریکی انتظامیہ کے سلامتی و سفارتی امور سے متعلقہ اعلی حکام کو مسلسل دوسرے ہفتے سے القاعدہ کی طرف سے ممکنہ تازہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاری اور انتظامات کے سلسلے میں بریفنگز دی جا رہی ہیں۔ یہ اہتمام امریکہ اور اس کے اہم نیٹو اتحادیوں کی جانب سے عالمی سطح پر جاری کیے تازہ ترین سیکورٹی الرٹس اور ٹریول وارننگز کے ماحول میں غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاوس میں ہونے والی تازہ ترین بریفنگ میں امریکی صدر کے سلامتی سے متعلق اعلی ترین مشیران کے علاوہ وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر دفاع چک ہیگل نے بطور خاص شرکت کی۔ اس بارے میں وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاوس میں قومی سلامتی کے مشیر رائس کے زیر صدارت پرنسپلز کمیٹی میں پیدا شدہ صورتحال اوراس سلسلے میں ضروری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی کے سربراہان کےعلاوہ اقوام متحدہ میں امریکی سفراء بھی شریک ہوئے۔

امریکی وائٹ ہاوس کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بارے میں صدر اوباما کے لیے پچھلے ہفتے میں مسلسل کئی بریفنگ ہو چکی ہیں، اس دوران تمام پہلووں سے القاعدہ کی جانب سے ممکنہ خطرات اور ان سے نمٹنے کی امریکی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ واضح رہے واشنگٹن نے جمعہ کے روز مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے بائیس ممالک میں اپنے سفارت خانے عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ تقریبا دو ہفتے سے جاری انہی بریفنگز کی روشنی میں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں