بچوں سے جنسی زیادتی کے مُجرم کی سزا معافی پرمراکشی فرمانروا 'رنجیدہ'

ہسپانوی شہری بچوں سے زیادتی کے جرم میں تیس سال کی قید کاٹ رہا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مراکش کے فرمانروا شاہ محمد ششم نے شاہی فرمان کے تحت سنگین جرائم کی پاداش میں سزا یافتہ ہسپانوی قیدی کی لاعلمی میں سزا معاف کرنے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مجرم کی رہائی کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

حال ہی میں اسپین کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت شاہ مراکش نے 48 ہسپانوی قیدیوں کی سزائیں معاف کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ رہائی پانے والوں میں ایک مجرم گیارہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی پاداش میں تیس سال کی قید کاٹ رہا تھا۔ اس مجرم کی رہائی پرشاہ مراکش کو دکھ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں سے زیادتی جیسے شرمناک جرم کے مرتکب قیدی کے بارے میں انہیں لاعلم رکھا گیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ سنگین جرم میں سزا یافتہ ہسپانوی کو رہا کرانے میں ملوث تمام کرداروں کو سامنے لایا جائے۔

ادھر شاہی دفتر سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ "یہ حقیقت ہے کہ بچوں سے زیادتی کے مرتکب مجرم ڈینیل گیلفن کی سزا کی نوعیت کے بارے میں بادشاہ سلامت کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے سامنے قیدیوں کی ایک اجمالی فہرست رکھی گئی تھی۔ سزا معاف کرتے وقت خود شاہ مراکش نے بھی کسی ملزم کی سزا کے بارے میں جانکاری کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ڈینیل کی جیل سے رہائی کے بعد ذرائع ابلاغ میں خبریں شائع ہوئیں اور مجرم کی اصلیت سامنے آ گئی۔ اس پر شاہ مراکش کو بہت دکھ پہنچا۔ خبرشائع ہوتے ہی شاہ محمد ششم نے ڈینیل کو چھڑوانے میں کردار ادا کرنےوالوں کو سامنے لانے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کرائی جائیں کہ انہیں بچوں سے جنسی زیادتی جیسے سنگین جرم کے قیدی کے بارے میں اندھیرے میں کیوں رکھا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بچوں سے زیادتی جسیے شرمناک جرم کے ملزم کی رہائی متعلقہ حکام کی دانستہ لاپرواہی یا کسی خفیہ گٹھ جوڑ کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ائندہ وزارت قانون و انصاف کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ رہائی پانے والے قیدیوں یا سزا معاف کرانے والوں کی سزاؤں کی مکمل تفصیلات فراہم کرے۔ ایسے کسی قیدی کو رہا ہونے والوں کی فہرست میں شامل نہ کیا جائے جو انسانی حقوق کی پامالی جیسے سنگین جرائم میں ملوث پایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں