تیونس میں اپوزیشن رہنما کے قتل کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا

'حکومت مخالف رہنما کمال مرجان پر حمام سوسہ میں حملے کا پروگرام تھا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تیونس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک کے مشرق میں ساحلی شہر 'حمام سوسہ' کی ایک اہم سیاسی شخصیت پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔

اس امر کا انکشاف تیونس نیشنل سیکیورٹی کے ڈائریکٹر وحید التوجانی نے گذشتہ روز ملک میں سلامتی کی صورتحال اور دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی فورس نے جمعہ کی شب حمام سوسہ شہر میں ایک قد آور سیاسی شخصیت کے قتل کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ وحید التوجانی نے سیاسی شخصیت کا نام نہیں بتایا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے جس سیاسی شخصیت کے قتل کا مبینہ منصوبہ ناکام بنایا ہے وہ معزول اور مفرور صدر زین العابدین بن علی کے دور حکومت میں وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ ان دنوں کمال مرجمان اپوزیشن کے اہم رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ادھر تیونس کے صدر علی العریض نے بھی مذکورہ معلومات کی ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں تصدیق کی ہے۔ نیوز کانفرنس سے پہلے علی العریض نے سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں اور فوجی قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں کیں تھیں۔

ادھر ہفتے کے روز حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے تیونس میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی کا انعقاد اپوزیشن کے مظاہروں کے جواب میں کیا گیا ہے جو ملک کی اسلام پسند حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

تيونس ميں حکمران جماعت النہضہ نے دعویٰ کيا ہے کہ دارالحکومت تيونس کے ’قصباح اسکوائر‘ پر ہفتہ تين اگست کے روز قريب دو لاکھ افراد نے حکومت کی حمايت ميں ريلی نکالی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرين، ہاتھوں ميں ملکی پرچم تھامے، حکومت کی حمايت ميں نعرے لگاتے ہوئے نظر آئے۔ اس موقع پر النہضہ کے رہنما راشد الغنوشی نے اپنے حاميوں سے مخاطب ہو کر کہا، ’’جو لوگ ايسا سمجھ رہے تھے کہ يہاں بھی مصر کے جيسی صورتحال پيدا ہو گی، وہ غلط تھے۔ تيونس کا انقلاب ايک مثال ہے اور يہ فوجی اقتدار کی راہ ہموار نہيں کرے گا۔‘‘

تيونس ميں حالات بگڑنے کے بعد سے يہ اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا، جسے نيوز ايجنسی اے ايف پی کے مطابق حکومت نے اپوزيشن کی جانب سے بڑھتے ہوئے مطالبات کے پيشِ نظر منعقد کرايا۔

درايں اثناء اپوزيشن کی جانب سے بھی ہزاروں افراد پر مشتمل ريلياں نکالی گئيں۔ تاہم تیونس میں منعقد ہونے والی ان مخالف ريليوں ميں کسی بھی ناخشگوار واقعے کی اطلاعات نہيں ملی ہيں۔

واضح رہے کہ تيونس کی سياسی صورتحال ميں شدت اس وقت پيدا ہوئی، جب رواں سال فروری ميں سيکولر سياستدان اور اسلام پسند حکمران جماعت النہضہ کے سخت ناقد شُکری بِلعَید کو ان کے گھر کے باہر قتل کر ديا گيا۔ تيونس ميں اس واقعے کے بعد ملک گير پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گيا تھا۔

بعد ازاں گزشتہ ماہ پچيس جولائی کو اپوزیشن کے پارليمانی رکن محمد براہمی کو تيونس شہر کے ايک نواحی علاقے ميں ان کے گھر کے باہر ہلاک کر ديا گيا تھا۔

اپوزيشن جماعتوں کے اتحاد نے منگل کے روز ايک ريلی نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تیونس میں حزب مخالف جماعتیں ملکی قانون ساز اسمبلی کی تحليل اور اسلام پسند حکمران جماعت النہضہ کی اقتدار سے عليحدگی کا مطالبہ کر رہے ہيں۔ اپوزيشن کا کہنا ہے کہ حکومت نہ صرف پہلے بِلعَید اور اب براہيمی کے قتل روکنے ميں ناکام رہی ہے بلکہ عسکريت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے بھی قاصر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں