.

امريکی سفارت خانوں کی بندش ميں توسيع کا اعلان

مشرق وسطی اور افریقی ممالک میں 19 امریکی سفارتخانے بند رہیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امريکا نے مشرق وسطیٰ اور چند افريقی ممالک میں قائم امريکی سفارت خانے دس اگست تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کے کسی ممکنہ واقعے کے تناظر ميں احتياط کرنا ہے۔

امريکی اسٹيٹ ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ ايک بيان ميں کہا گيا ہے کہ "امريکا کے 19 سفارت خانے آئندہ ہفتے کے روز تک بند رہيں گے۔ اس بيان کے مطابق يہ اقدام احتياط کے طور پر کيا گيا ہے۔" محکمے کی ترجمان جین پاسکی نے اس بارے ميں بات کرتے ہوئے کہا، ’’يہ اقدام کسی نئے ممکنہ خطرے کی علامت نہيں ہے بلکہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہم اپنے سفارتی عملے، ملازمين، مقامی لوگوں اور ہمارے سفارتی دفاتر میں آنے جانے والے لوگوں کی جان کی حفاظت کے ليے پر عزم ہيں۔‘‘

قبل ازيں اتوار چار اگست کو واشنگٹن کی جانب سے دنيا بھر ميں قريب پچيس سفارت خانوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فيصلہ کيا گيا تھا۔ تاہم افغانستان، الجزائر، بنگلہ ديش، موریتانیہ، عراق اور اسرائيل ميں قائم امريکی سفارت خانوں کو کھولنے کا فيصلہ کيا گيا ہے۔ البتہ جہاں چند ملکوں ميں امريکا اپنی سفارتی سرگرمياں ايک روز کی معطلی کے بعد دوبارہ شروع کر رہا ہے، وہيں پندرہ دفاتر کی بندش ميں توسيع کرنے کا فيصلہ بھی کيا گيا ہے۔

جن سفارتی دفاتر کی بندش ميں توسيع کرنے کا فيصلہ کيا گيا ہے اور انہيں دس اگست تک بند رکھا جائے گا۔ ان ميں ابوظہبی، عمان، قاہرہ، ریاض، ظهران، جدہ، دوحہ، دبئی، کویت، منامہ، مسقط، صنعاء، طرابلس، اینٹانانیریو، بجمبرا، جبوتی، خرطوم، کگالی، اور پورٹ لوئس ميں قائم امريکی سفارت خانے شامل ہيں۔ اتوار کو جاری کردہ امريکی محکمہ خارجہ کے بيان کے ذريعے اس فہرست ميں مڈغاسکر، برونڈی، روانڈا اور موریشس ميں قائم چار مزيد سفارت خانوں کو بھی شامل کيا گيا ہے۔

واضح رہے کہ يہ اقدامات اس ليے کيے جا رہے ہيں کيونکہ امريکا نے دہشت گرد نيٹ ورک القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے ایک گروپ کی گفتگو تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ امريکی اخبار ’دی نيو يارک ٹائمز‘ کی پچھلے ہفتے کے روز شائع ہونے والی ايک رپورٹ ميں امريکی اہلکاروں کے حوالے سے بتايا گيا تھا کہ القاعدہ کے ارکان کی اس گفتگو ميں مشرق وسطیٰ اور شمالی افريقی خطے ميں دہشت گردی سے متعلق منصوبہ بندی کا ذکر کيا گيا ہے۔