.

ترک عدالت نے سابق فوجی سربراہ کو عمر قید سنا دی

ارگینیکون کے دیگر رہنماؤں کو 129 سال تک کی سزائے قید، 21 بری ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک عدالت نے قوم پرستی کی آڑ میں منتخب حکومتوں کی برطرفی کی سازش کرنے، دہشت گرد تنظیموں سے روابط رکھنے اور ان کی سرپرستی کرنے کے حوالے سے مشہور مقدمے میں اکیس ملزمان کو بری قرار دیتے ہوئے تقریبا ڈھائی سو ملزمان جن میں فوج کا سابق سربراہ، سابق جرنیلوں و اعلی افسران بعض دوسروں پر جرم ثابت ہونے انہیں سزا سنا دی گئی ہے۔ سابق فوجی سربراہ الکر باس بگ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈھائی سال سے لے کر سزائیں سنائی گئی ہیں۔ فیصلہ استنبول کے مغربی حصے میں واقع جیل میں قائم عدالت نے انتہائی حفاظتی ماحول میں سنایا گیا ہے۔ سابق فوجی جرنیل اور مقدمے کے بڑے ملزم الکر باس بگ اسی جیل میں بند ہیں۔

پیر کے روز عدالتی فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر ملزم سابق فوجی سربراہ الکرباس بگ، سینئِر فوجی افسروں اوردیگر شعبوں سے متعلق ملزمان کے حامی بطور خاص جمع تھے۔ جنہیں استنبول کے گورنر حسین اونی موتلو نے خبردار کیا تھا کہ عدالت کے ارد گرد کسی منظم اکٹھ یا احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

گزشتہ کئی سال سے زیر سماعت اس مقدمے میں سابق آرمی چیف اور سینئیر افسروں سمیت 275 افراد پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ جمہوری طریقے سے منتخب اسلام پسند حکومت کو گرانے کی سازش میں ملوث رہے۔ ملزمان پرعائد کیے گئے دیگرالزامات میں زیر زمین دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط ،غیر قانونی ہتھیار رکھنا اور 2002 میں برسر اقتدار آنے والی رجب طیب ایردوآن کی منتخب حکومت کے خلاف مسلح بغاوت پر اکسانا بھی شامل ہے۔

سابق فوجی سربراہ سمیت 275 ملزمان کے خلاف 2455 صفحات پر محیط فرد جرم میں مشتبہ دہشت گرد تنظیم ارگینیکون کے نیٹ ورک اوراس سے تعلق رکھنے والے ان ملزمان پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے قوم پرستی کی آڑمیں ترکی کو انتہا پسندی کے زیر تسلط رکھنے کے لیے مسلسل کئی عشروں تک سیاسی تشدد کا ارتکاب کیا۔

ترکی میں سیکولر اپوزیشن نے 2008 میں شروع ہونے والےاس مقدمے کا ٹرائل طویل ہونے پر تنقید کرتے ہوئےاسے حکومت مخالف عناصر کو نشانہ بنانے سے تعبیر کیا ہے۔ البتہ حکومت کے حامی دہشت گردی کے نیٹ ورک کا ٹرائل کرنے کو بہتر اقدام سمجھتے ہیں کیونکہ 1960 سے لے کر حالیہ عشروں تک ملزمان کے رجحان کے حامل فوجی عناصر چار مرتبہ حکومتوں کا تختہ الٹا چکے ہیں۔ حکومتی تختہ الٹانے کا آخری واقعہ 1997 میں موجودہ حکمران جماعت کی مادر جماعت رفاہ پارٹی کے وزیر اعظم نجم الدین اربکان [مرحوم] کی حکومت کی برطرفی کا تھا۔ واضح رہے نجم الدین اربکان ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے سیاسی فکری مربی اور سرپرست تھے۔

پیر کے روز سناَئے گئے فیصلے کے مطابق ریٹائرڈ جنرل ولی کک کوعمر قید کی سزا۔ سابق آرمی کمانڈر ہورسٹ ٹولن 129 برس۔ یلکن کک کو 86 برس قید کی سزا۔ قائد ڈوگو پرینک 129 کو برس۔ مصطفی ڈومنز 49 برس۔ فکرٹ ایمک 41 برس ۔ ریٹائرڈ کرنل عارف ڈگن 32 برس۔ ارگن پورز 29 برس۔ صحافی ٹنسی ازکان عمر قید کی سزا۔ عدنان عکفیرات 19 برس۔ بدرہان سینل 18 برس۔ سابق پولیس چیف عادل سردارساکن 14 برس۔ مافیا سربراہ سادات پیکر 10 برس۔ عیرل منسائی9 برس۔ علی یسک 6 برس۔ مہمت اوتزبرگلو 20 برس۔ عثمان یلدرم 8 برس۔ مہمت پرینک 6 برس۔ حفظی کبکلو 9 برس۔ سیمی طوفان گوللٹی 12 برس۔ فرت برنی، مصطفی یرتکران 10 برس۔ فردا پکست ڈھائی برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔