.

لیلہ القدر: حرمین شریفین میں 25 لاکھ فرزندان توحید نے عبادت کی

ستائیسویں شب کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کئے گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے تاریخی شہر مکہ مکرمہ اور مدنیہ المنورہ میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ماہ صیام کی ستائیسویں شب حسب معمول لاکھوں فرزندان اسلام نے نماز تراویح ادا کی اور لیلۃ القدر کی برکات سمیٹنے کے لیے قیام اللیل کیا۔ دونوں مقدس مقامات میں مجموعی طور پر پچیس لاکھ سے زائد اہل ایمان نے حاضری دی۔ لیلۃ القدر کے موقع پر مسجد حرام اور مسجد نبوی میں معتمرین اور عبادت گذاروں کے تحفظ کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔

قبل ازیں الحرمین الشریفین سے متعلقہ امور کے نگران ادارے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ستائیس رمضان المبارک کی شب مسجد حرام اور مسجد نبوی دونوں میں معمول سے زیادہ رش ہوسکتا ہے کیونکہ اسی رات دونوں مساجد میں نماز تراویح میں ختم قرآن بھی ہو گا۔

مسجد الحرام کے سیکیورٹی چیف میجر جنرل یحیٰ الزھرانی نے"العربیہ" کو بتایا کہ حرم مکی کے اندرونی اور بیرونی احاطوں میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ صحت وصفائی کو یقینی بنانے کے لیے ہلال احمر اور شہری دفاع کا عملہ بھی الرٹ کر دیا گیا تھا"۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد حرام میں موجود 80 فی صد نمازیوں نے لیلۃ القدر کے موقع پر مطاف کے صحن میں عبادت کی"۔

نمازیوں اور معتمرین کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر الزھرانی نے بتایا کہ "مسجد حرام میں خصوصی نگرانی کے لیے سیکڑوں خفیہ کیمرے نصب کیے گئے ہیں جنہیں ایک مرکزی کنٹرول روم سے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ رش کو کم سے کم کرنے کے لیے اسپیشل سیکیورٹی فورسز اور کنٹرول روم کے درمیان براہ راست رابطہ قائم رہتا ہے اورھجوم کو متبادل راستوں سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات کیے جاتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ماہ صیام کی انتیسویں شب کو بھی نمازیوں کی غیر معمولی تعداد کے جمع ہونے کا امکان ہے۔ لہٰذا ہم نمازیوں سے یہ اپیل کریں گے کہ وہ دیگر حصوں میں جاری تعمیراتی کام کے باعث مسجد حرام کی شمالی سمت کی جانب سے کھلنے والے راستوں کواستعمال کریں۔ نیز معذور اور بزرگ معتمرین فضاء میں معلق مطاف کی سہولت سے استفادہ کریں۔