افغانستان کے متوقع انتخابات وقت کا ضیاع ہوں گے: ملا عمر

طالبان اس راستے اقتدار میں آنے کا ارادہ نہیں رکھتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طالبان رہنما ملا محمد عمر نے اگلے سال ہونے والے افغان صدارتی انتخابات کو وقت کا ضیاع قرار دیا ہے۔ ملا عمرکے حوالے سے جاری کیے گئے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ "2014" میں انتخابات کے نام پر ہونے والے فریب کا ہمارے لوگ حصہ نہیں بنیں گے۔ ان انتخابات کے نتائج واشنگٹن میں مرتب ہوتے ہیں، اسی لئے ان میں شرکت وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔"

اپریل 2014 میں متوقع صدارتی انتخابات کی کامیابی کی خاطر ان میں پشتو بولے والوں کی شرکت کی بہت اہمیت ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا ماننا ہے کہ یہ انتخابات افغانستان کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہوں گے اور اگلے سال نیٹو افواج کی واپسی کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے مجوزہ انتخابات کی اہمیت دو چند ہو گی ۔

جبکہ ملا عمر نے اپنے بیان میں 12 سال لمبی لڑائی کے بعد امن کی امید دلاتے ہوئے کہا ہے کہ،"طالبان کا اس امریکا ڈیزائن کردہ انتخاب کے راستے اقتدار میں آںے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم افغان عوام کے عزم اور ارادے کی بنیاد پر افغان عوام کی شراکت کے ساتھ ایک ایسی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو۔"

افغانستان میں 70٫000 امریکی فوجی اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے 30٫000 فوجی موجود ہیں جو کہ 2014 کے آخر تک واپس اپنے ملکوں کو چلے جائیں گے۔ امریکا کے افغانستان میں خصوصی ایلچی جیمز ڈابنز کا کہنا ہے کہ آئندہ صدارتی انتخابات افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر انتخابات بخیریت مکمل ہوتے ہیں اور ان کے نتائج ملک بھر میں تسلیم ہو جاتے ہیں تو افغانستان کے زیادہ تر مسائل انتہائی آرام سے حل ہو جائیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں