برطانیہ کا یمن میں سفارتخانہ تا حکم ثانی بند رہے گا

تمام سفارتی عملے کو بھی واپس بلا لیا، اقدام امریکی فیصلوں کے باعث کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ نے یمن میں اپنے سفارت خانے کے تمام عملے کو واپس بلا لیا ہے اور تا حکم ثانی سفارت خانہ بھی بند رہے گا۔ برطانیہ کی طرف سے یہ اقدام امریکا کے عالمی سطح پر جاری کیے گئے سکیورٹی الرٹ کے ذریعے اپنے شہریوں کو یمن چھوڑنے کے تازہ ترین حکم کے بعد کیا گیا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق '' بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یمن سفارتخانہ میں موجود تمام تر سٹاف کو عارضی طور پر واپس آنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ نیز برطانوی سفار خانہ اس وقت تک بند رہے گا جب تک سٹاف واپس جانے کی پوزیشن میں نہیں آتا۔

واضح رہے برطانیہ نے گزشتہ ہفتے کے روز سے ہی اپنے سفارت خانے کے بیشترعملے کو یمن سے واپس بلا لیا تھا۔ برطانیہ ان ممالک میں شامل ہے جس نے القاعدہ سے تازہ خطرات کے حوالے سے امریکی اطلاعات کی بنیاد پر پہلے ہی اپنے عملے اور سفارتخانے کی بندش کے ابتدائی فیصلے کر لیے تھے۔

برطانیہ نے منگل کے روز سفارتخانے کی غیر معینہ مدت تک بندش کا حکم بھی امریکی سکیورٹی الرٹ سے خطرے کی سطح کو بھانپتے ہوئے کیا ہے۔ درایں اثناء امریکا جس نے جمعہ کے روز مشرق وسطی اور افریقی مملک میں اپنے بائیس سفارت خانے بند رکھنے کا اعلان کی تھا ، اپنے 19 سفارت خانوں کو 10 اگست تک بند رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں