برقعے اور خاتون ''جین بانڈ '' کی مدد سے ماں کو بچی مل گئی

تین سالہ بچی کو دو سال قبل شوہر لندن سے قاہرہ لے آیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک ہمدرد خاتون کی مدد سے بہادرعورت اپنی تین سالہ بچی تک پہنچنے میں ہی نہیں اسے مصر سے واپس لندن لانے میں بھی کامیاب ہو گئی۔ ایک سال کی عمر میں بچھڑنے والی بچی نے ماں کو پہچان لیا، لیکن جو کام برطانوی پولیس نہ کرسکی وہ برقعے کی مدد سے ممتا نے بہ آسانی کر لیا۔

پولینڈ میں پیدا ہونے والی ایلکس ابو علا بے حال اور پریشان تھی، کہ اپنے مصری شوہر کے ہاتھوں چھین کر لے جائی جانے والی تین سالہ بچی کو کس طرح واپس لائے، کہ پولیس بھی بچی کی واپسی میں مدد دینے میں یہ کہہ کر انکار کر چکی ہے کہ برطانیہ اور مصر کے درمیان ملزمان حوالگی کا کو ئی ایسا معاہدہ موجود نہیں جسے بنیاد بنا کر ایلکس کے شوہر کو اغوا کار اور تین سالہ بچی کو مغویہ قرار دے کر کارروائی کر سکے۔ اگرچہ پولیس، سنگین جرائم سے نمٹنے والا برطانوی ادارہ اور انٹر پول سبھی الرٹ کھڑے تھے، لیکن مصری طیارے کے اندر کارروائی کا حق کسی کو نہ تھا۔

برک شائر میں مقیم ایلکس کو اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اسی وجہ سے خود مصر جانا تھا۔ جب اس کا شوہر بچی کو ایک مصری ائر لائن کے طیارے سے مصر لے کر گیا تو برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے روک نہ سکے تھے۔ اب ایلکس نے اپنی تین سالہ مونا کو لانے کے لیے بھیس بدل کر مصر جانے کا فیصلہ کیا، کہ یہی ایک راستہ تھا۔

اگرچہ گزشتہ دو سال سے ایلکس کا شوہر مصر سے فون پر گاہے گاہے دھمکاتا اور کہتا رہتا تھا کہ بچی کو بھول جائے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ایلکس کی ایک مشکل برقعے سے حل ہو گئی۔ اس کی یہ مدد ایک سکاٹش خاتون اور ''صحرا کی ہیروئن ''کی مصنفہ دونیا الناہی نے کی جو برطانوی میڈیا میں ''جین بانڈ'' سمجھی جاتی ہے کہ وہ خواتین کی مدد کے بےشمار واقعات کی ''ماسٹر مائنڈ'' ہے۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونیا الناہی والدین کی باہمی لڑائیوں میں عرب شوہروں کے ہاتھوں اسی طرح اغوا ہونے اور چھینے جانے والے بچوں کی بازیابی کے لیے بطور خاص سر گرم رہی ہے۔ اسی ''جین بانڈ '' نے ایلکس کی رہنمائی کی۔

ایلکس نے برقعہ اوڑھا ، نقاب کیا اور مصر پہنچ گئی۔ ایلکس اپنے شوہر کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑی ہو کر مونا کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی۔ کچھ دیر بعد ایلکس اور مونا کا آمنا سامنا تو ہو گیا مگرفوری طور پر مونا اپنی بھیس بدل کر پہنچنے والی ماں کو پہچان نہ سکی اور عربی میں بات چیت کرنے والی خاتون جو مونا کی نگہداشت پر مامور تھی باتیں کرتی رہی۔ یہ صورت حال ممتا کے لیے سخت صدمے کا باعث بن رہی تھی۔

لیکن تقریبا آدھا گھنٹہ نہیں ہوا تھا کہ تین سالہ مونا نے حیرت سے پکارا ''آپ میر ی مم ہیں ؟'' ''اب مونا نے مجھے پہچان لیا تھا، یہ ایک خوبصورت اور یادگار لمحہ تھا۔'' ممتا کو اس کے جگر کا ٹکڑا مل گیا اور ایک معصوم بچی کو اس کی ممتا مل گئی۔ ایلکس نے دل ہی دل میں دونیا الناہی کے لیے دعائیں کیں اور اپنی مونا کو لے کر لندن پہنچ گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں