تیونس: النہضہ کی سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے ریفرینڈم کی پیش کش

سیکولر حزب اختلاف کا حکومت کو ہٹانے اور اسمبلی کی تحلیل کا مطالبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس کی حکمراں جماعت النہضہ کے سربراہ نے انتقال اقتدار کے عمل اور عبوری نظم ونسق کو برقرار رکھنے کے ضمن میں عوام کی رائے جاننے کے لیے ریفرینڈم کرانے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن انھوں نے سیکولر حزب اختلاف کے حکومت کو ہٹانے کے مطالبے کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا ہے۔

شیخ راشد الغنوشی نے سوموار کو رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی جماعت النہضہ تیونس میں سیاسی انتقال اقتدار کے عمل میں تبدیلی کے لیے حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کو تیار ہے لیکن انھوں نے وزیراعظم کو ہٹانے یا دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے مطالبے کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر ان کا (حزب اختلاف کا) انتقال اقتدار کے عمل کو معطل کرنے پر اصرار ہے تو ہمارا ان سے کہنا ہے کہ آئیے اس پر ایک عوامی ریفرینڈم کرالیتے ہیں''۔شیخ راشد نے کہا کہ ''انھوں نے اپنے مطالبات کو بہت بلند کر لیا ہے اور اب وہ ایک درخت میں اٹک کررہ گئے ہیں''۔

النہضہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ حزب اختلاف کے ساتھ اس کی پیشگی شرائط کے بغیر بات چیت کے ذریعے متنازعہ مسائل کو حل کرنے کو تیار ہیں اور سابق صدر زین العابدین بن علی کے دور حکومت سے تعلق رکھنے والوں کو الگ تھلگ کرنے والے قانون پر بھی بات ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ تیونس کے بہت سے سیکولر گروپوں نے مجوزہ قانون کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے سیاسی منظرنامے مِیں النہضہ ہی مضبوط ہوگی۔

شیخ راشد نے کہا کہ اس قانون کو دستور ساز اسمبلی میں موجود بلاکوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے منسوخ کیا جاسکتا ہے یا اس کے نفاذ میں تاخیر کی جاسکتی ہے۔دوسرا امکان یہ ہے کہ مجوزہ قانون کو مزید سخت بنا دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سابق صدر بن علی سے تعلق رکھنے والی جماعت ندا تونس پارٹی کے ساتھ بھی بات چیت پر آمادہ ہیں اور اس جماعت کو تمام سیاسی بلاکوں کے ساتھ بات چیت کے بعد قومی اتفاق رائے کی حکومت میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ دارالحکومت تیونس میں 25 جولائی کو حزب اختلاف کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی محمد براہیمی کے قتل کے بعد سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور حزب اختلاف کی جماعتیں النہضہ کی قیادت میں حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہیں۔سیکولر حزب اختلاف اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔اس نے سول نافرمانی اور سرکاری دفاتر پر قبضے کی کال دے رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں