تیونس: سیدی بوزید میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ

مظاہرین کی علاقائی گورنر کو ٹاؤن ہال میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس میں 2011ء میں عوامی انقلاب کی جائے پیدائش ،جنوبی شہر سیدی بوزید میں پولیس نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی ہے اوراشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

عینی شاہدین نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ مظاہرین نے علاقائی گورنر کو ٹاؤن ہال میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی ہے۔

تیونس کی سیکولر حزب اختلاف اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔اس نے سول نافرمانی اور سرکاری دفاتر پر قبضے کی کال دے رکھی ہے۔

دارالحکومت تیونس میں 25 جولائی کو حزب اختلاف کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی محمد براہیمی کے قتل کے بعد سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور حزب اختلاف کی جماعتیں اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہیں۔مقتول براہیمی کا تعلق اسی شہر سیدی بوزید سے تھا۔

تیونسی حکومت نے انتہا پسندوں پر محمد براہیمی کے قتل کا الزام عاید کیا ہے جبکہ حزب اختلاف نے النہضہ پر ان کے قتل کا الزام عاید کیا ہے۔حزب اختلاف کی جماعتیں ،ملک کی بڑی لیبر یونین اور النہضہ کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل سیکولر جماعت اعتکاتول وزیراعظم علی العریض کی قیادت میں کابینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔حزب اختلاف عبوری دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے کا بھی مطالبہ کررہی ہے۔

حکومت نے حزب اختلاف کے حالیہ مظاہروں کے بعد 17 دسمبر کو آیندہ عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے لیکن اس نے حزب اختلاف کے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں