مؤقر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ 25 کروڑ ڈالر میں فروخت

اخبار گذشتہ آٹھ دہائیوں سے گراہم فیملی کی ملکیت رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کا 135 برس پرانا اخبار واشنگٹن پوسٹ 25 کروڑ ڈالر میں فروخت کر دیا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے گراہم فیملی کی ملکیت رہا ہے۔

آن لائن شاپنگ پورٹل ایمازون کے مالک جیف بیزوس نے مشہور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ 25 کروڑ ڈالر میں خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بیزوس اخبار کے ساتھ اس کی بعض دوسری نشرو اشاعت سے متعلقہ جائدادیں خریدنے کا اعلان کیا ہے جو وہ ذاتی حیثیت میں خرید رہے ہیں۔

واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے گراہم فیملی کی ملکیت رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے واشنگٹن پوسٹ کے سربراہ ڈونلڈ گراہم ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اخباری چیلینـجز نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید کوئی اور مالک اخبار کے لیے بہتر ہو گا۔ انہوں نے جیف بیزوس کے ٹیکنالوجی اور کاروباری کامیابیوں کے بارے سے کہا کہ یہ خصوصیات انہیں بہتر نیا مالک بناتی ہیں۔

فروخت کا یہ عمل 60 دنوں میں مکمل ہو گا اور اس میں کمپنی کے تحت کئی ذیلی کمپنیاں فروخت نہیں کی گئیں جیسا کہ تعلیمی ادارہ کیپلن جو اب بھی گراہم خاندان کی ملکیت رہے گا۔ جیف بیزوس کی جانب سے اس اخبار کو خریدنے سے امریکہ میں ان کے اثر میں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں ایمازون بہت سارے متنوع کام کر رہی ہے وہیں واشنگٹن پوسٹ کا معاملہ علاحدہ ہے کیونکہ یہ بیزوس ذاتی حیثیت میں خرید رہے ہیں جس میں ان کے مطابق ایمازون کا کو کردار نہیں ہے۔

اخبار کے کارکنوں کو ایک پیغام میں جہاں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ اخبار کے روزمرہ کے معاملات نہیں چلائیں گے وہیں انہوں نے جدت اور تجربات پر زور دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو چل رہا ہے وہ اب شاید ممکن نہیں ہو گا۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹس بھی گراہم خاندان کی ملکیت رہیں گی جن میں جریدہ سلیٹ، دی روٹ ڈاٹ کام اور فارن پالیسی شامل ہیں۔

گذشتہ کچھ دنوں میں یہ کسی بڑے امریکی اخبار کی فروخت کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل نیو یارک ٹائمز نے اپنے مشہور اخبار بوسٹن گلوب کو سات کروڑ ڈالر میں جان ڈبلیو ہنری کو فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جان ڈبلیو ہنری مشہور بیس بال ٹیم بوسٹن ریڈ ساکس کے ملک ہیں۔ یاد رہے کہ نیویارک ٹائمز نے یہی اخبار 1993 میں ایک ارب دس کروڑ ڈالر میں خریدا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں