.

ایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص گرفتار

مقدمہ کے سماعت کا آغاز، ملزم کوجلد سزا دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوڈیشل حکام نے ملک کے وسطی ضلع کرمان سے ایک شخص کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لینے کادعویٰ کیا ہے۔ ضلع کرمان کی انقلاب عدالت کے چیف جسٹس مہرداد خدا سالاری کا ایک بیان ذرائع ابلاغ میں شائع ہوا ہے۔ اس بیان میں ان کا کہنا ہے کہ دشمن ملک اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیے گئے ملزم کےخلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ جلد ہی اسے اس جرم کی پاداش میں سزا سنائی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ایرانی جوڈیشل حکام نے ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی البتہ اتنا بتایا ہے کہ ملزم ایک تاجر ہے جو پچھلے چند برسوں کے دوران مشرقی ایشیائی ملکوں کے تواترکے ساتھ دورے کرتا رہا ہے۔ اس کے تھائی لینڈ کے لیے آخری سفر کے دوران اسرائیلی سفارت خانے کے ایک سینیئر اہلکار کے بارے میں معلومات ملی تھیں جس سے اس کے اسرائیلیوں سے مشکوک روابطہ کا پتہ چلتا تھا۔

جسٹس سالاری نے بیرون ملک سفرکرنے والے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ دشمن ملک کے لیے جاسوسی کرنے والوں سے چوکنا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے وہ رضاکارانہ طور صہیونی خفیہ اداروں کے لیے کام کر رہا تھا۔ اس کےخلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ جلد ہی اسے اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہوگی۔

خیال رہے کہ ایران میں جاسوسی کی کم سے کم سزا موت ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران تہران نے ایسے دسیوں افراد کو پھانسی پرلٹکایا ہے جن پر اسرائیلی خفیہ ادارے"موساد"،امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے"سی آئی اے" اور دیگر خفیہ ایجنسیوں سے روابط کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے گئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ایرانی عدالتوں کے فیصلوں اور پھانسی کی سزاؤں کو تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے۔