.

امریکا، روس میں نئی سرد جنگ، اوباما کی پوتین سے ملاقات منسوخ

ایڈورڈ سنوڈن کو پناہ دینے، میزائل دفاعی نظام اور انسانی حقوق پراختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور روس کے درمیان ایک نئی جنگ شروع ہوگئی ہے اور امریکی صدر براک اوباما نے ستمبر میں اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے طے شدہ ملاقات منسوخ کردی ہے۔

امریکا روس سے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی خفیہ معلومات افشاء کرنے والے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو پناہ دینے پر روس سے ناراض ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان یورپ میں میزائل دفاعی نظام کی تنصیب اور انسانی حقوق جیسے ایشوز پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

صدر براک اوباما ستمبر میں گروپ 20 کے اقتصادی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ آنے والے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صدر اوباما کا پوتین کے ساتھ ون آن ون ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ ماسکو میں روسی صدر سے ملاقات کے بجائے اس سے پہلے سویڈن میں مختصر قیام کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کونسل کے نائب مشیر بن رہوڈز نے کہا کہ روس نے گذشتہ ماہ امریکا کی مخالفت کے باوجود سنوڈن کو ایک سال کے لیے عارضی پناہ دے دی ہے جس سے دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ آیا ہے۔اس تناظر میں ماسکو ملاقات میں کسی پیش رفت کا کوئی امکان نہیں تھا۔اس لیے صدر نے یہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسٹر رہوڈز نے کہا کہ ''ہم روس کے ساتھ مشترکہ مفاد کے امور پر بدستور کام کرتے رہیں گے لیکن صدر اور ان کی قومی سلامتی ٹیم کی یہ مشترکہ رائے تھی کہ موجودہ ماحول میں سربراہ ملاقات کا کوئی جواز نہیں رہ گیا ہے''۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایڈروڈ سنوڈن کو پناہ دینے،روس کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی حمایت اور شام کو میزائلوں سمیت اسلحے کی فراہمی پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ امریکا نے روس کو کریملن کے ناقدین کے خلاف کریک ڈاؤن پر بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ حال ہی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روس کی اٹھارہ شخصیات پر پابندیاں عاید کی ہیں۔

دوسری جانب روس نے امریکا پر مشرقی یورپ میں میزائل شیلڈ نظام نصب کرنے پر تنقید کی ہے اور اس پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے یہ میزائل دفاعی نظام روس کے خلاف سد جارحیت کے طور پر نصب کیا ہے حالانکہ امریکی حکام یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ یہ میزائل نظام اس کے سرد جنگ کے حریف کے لیے نہیں ہے۔