.

ایران: جیل کے نظام میں خلل ڈالنے پرفائزہ ھاشمی کا ٹرائل

سابق صدر کی بیٹی پرجیل میں خامنہ ای مخالف نعرے بازی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک انقلاب عدالت نے سابق صدرعلی اکبرھاشمی رفسنجانی کی سیاست میں متحرک صاحبزادی فائزہ ہاشمی کا دوران حراست "ایفین" جیل کے نظام میں خلل ڈالنے کے الزام میں ٹرائل شروع کیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق فائزہ ہاشمی کےخلاف دائر مقدمہ کی سماعت تہران کی ایک انقلاب عدالت میں بند کمرہ میں ہوئی جس میں فائزہ کو بھی پیش کیا گیا۔ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں اور اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر کی صاحبزادی نے بتایا کہ "عدالت ایک ہفتے کے اندر میرے مقدمہ کا فیصلہ سنا سکتی ہے، تاہم اگر یہ فیصلہ میرے خلاف ہوا تو میں اس پربھرپور احتجاج کروں گی"۔ انہوں نے مقدمہ کی بند کمرہ سماعت کی کارروائی کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم صرف اتنا کہا کہ وہ عدالت کا انصاف جانچنا چاہتی ہے۔

قبل ازیں احاطہ عدالت میں پہنچنے کے بعد فائزہ نے مختصر گفتگو کرتےہوئے کہا تھا کہ "آغاز میں میرے مقدمہ کی کارروائی غیرقانونی اندازمیں چل رہی تھی تاہم اب عدالت نے درست سمت میں کارروائی شروع کی ہے"۔

خیال رہے کہ ایران کی گارڈین کونسل کے سربراہ اور سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی سیاست میں سرگرم صاحبزادی کے خلاف سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں کئی الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ انہیں سب سے پہلے سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو چیلنج کرنے اور اصلاح پسندوں کی حمایت میں جلسوں میں تقریریں کرنے پر جیل میں ڈالا گیا۔ احمدی نژاد کے خلاف احتجاج کی پاداش میں سے چھ ماہ قید اور پانچ سال تک سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کی سزا سنائی گئی تھی۔

بعد ازاں فائزہ پرالزام عائد کیا گیا کہ اس نے دوران حراست تہران کے قریب"ایفین" جیل میں سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر مقتدر 'مقدس ہستیوں' کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔ فائزہ پرمبینہ طورپر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ایفین جیل کے نظام میں خلل ڈالا اور 'مرشد اعلیٰ مردہ باد' کے نعرے لگائے تھے۔ سپریم لیڈر کے خلاف نعرے بازی کے الزام کے بعد فائزہ ہاشمی کو تین ہفتے تک انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحویل میں دے دیا گیا اور اس کے رشتہ داروں سے ملنے پرپابندی عائد کردی گئی تھی۔