.

شامی جنگ امریکہ کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے: اہلکار سی آئی اے

بشار الاسد کے بعد ہتھیاروں سے بھرا ملک القاعدہ کی پناہ گاہ ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"شام میں جاری جنگ امریکہ کے لیے سب بڑا خطرہ ہے کیوں کہ وہاں حکومت گرنے کا خطرہ موجود ہے جس کے بعد ہتھیاروں سے بھرا یہ ملک القاعدہ کے لیے پناہ گاہ بن جائے گا۔"

ان خیالات کا اظہار سی آئی اے کے سیکنڈ ان کمانڈ مائیکل موریل نے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا ہے۔ موریل 33 سالہ سروس کے بعد ایجنسی سے ریٹائر ہونے کے بارے میں غور کررہے ہیں۔

وال اسٹریل جرنل میں موریل کے شائع ہونے والے انٹرویو کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کی جانب سے شام میں القائدہ منسلک گروپوں کے ہمراہ جنگ میں حصہ لینے کی تعداد عراق کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان کے کہنا ہے کہ شامی حکومت کے ختم ہوجانے کے بعد ان کے ہتھیار عسکریت پسندوں کے لیے دستیاب ہوں گے۔

شامی جنگ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے موریل کا کہنا تھا کہ ‘جس طرف یہ معاملہ جارہا ہے، شاید یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جاری تشدد لبنان، اردن اور عراق میں بھی پھیلنے کا خدشہ ہے۔

سی آئی اے افسر نے انٹرویو میں کہا کہ خطرے سے متعلق اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ایران جبکہ اس کے بعد القائدہ، شمالی کوریا اور سائبر جنگ ہے۔

القاعدہ کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان میں کارروائیاں کرکے امریکہ نے تنظیم کی صلاحیت کو کافی حد تک کم کردیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تنظیم نے کچھ کامیابیاں بھی حاصل کی ہے جس میں عالمی سطح پر اپنے نظریے کا پرچار ہے۔

خیال رہے کہ موریل کی جگہ 43 سالہ وائٹ ہاؤس کے وکیل اوریل حینس لینے جا رہے ہیں۔


سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز کو نائب وزیر دفاع مقرر کیا ہے۔
وہ شہزادہ فہد بن عبداللہ کی جگہ لیں گے۔

شہزادہ سلمان نائب وزیر دفاع مقرر ہونے سے پہلے سعودی عرب کے اہم قومی ادارے نیشنل سیکیورٹی کونسل فار انٹلیجنس اینڈ سیکیورٹی آفیئرز کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کے منصب پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔