.

تیونس سیاسی بحران، صدارتی مشیر نے استعفی دے دیا

وزیر اعظم کی طرف سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے صدارتی مشیر الہادی بالعباس ملک میں بڑھی ہوئی سیاسی کشدگی اورافراتفری کے باعث اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ تیونس میں سیاسی افراتفری میں گزشتہ ماہ ایک اہم سیاسی رہنما محمد براہیمی کی موت وجہ سے شدت پیدا ہو گئی ہے۔ صورت حال کی بہتری کے لیے وزیر اعظم علی لارائدی نے عید کے موقع پر حزب اختلاف کے ساتھ مل بیٹھنے کا عندیہ دیا ہے ۔

وزیر اعطم کا اپنے عید پیغام میں کہنا تھا ''مکالمہ مشکلات پر قابو پانے اور جاری مسائل حل کرنے کا بہترین راستہ ہے۔'' انہوں نے مزید کہا ''حکومت مکالمے کے حوالے سے کی جانے والی ہر کوشش کا خیر مقدم کرے گی۔''

حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کی ورکنگ معطل ہونے کے بعد وزیر اعظم کا یہ پہلا ردعمل تھا۔ تاہم ابھی تک مذاکرات پر دو طرفہ آمادگی کے بارے میں کسی سمجھوتے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ البتہ اسمبلی کے سپیکر مصطفی بن جعفر نے کابینہ اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت پر زور دیا ہے۔

شمالی افریقہ میں واقع اہم عرب ملک تیونس کو ماہ فروری سے اس وقت سے سیاسی بحران کا سامنا ہے جب حزب اختلاف کے ایک رہنما اور رکن پارلیمنٹ کا قتل ہوا۔ بعد ازاں جولائی میں ایک اور واقعے میں اسی ہی ایک موت نے معاملہ تیز کر دیا۔